ہوم » نیوز » عالمی منظر

بریگزٹ : برطانوی عوام میں تذبذب ، لاکھوں افراد کا دوبارہ ریفرنڈم کا مطالبہ

لندن : یورپی یونین کی رکنیت کے سوال پر برطانیہ میں اب دوسرا ریفرنڈم کرانے کا مطالبہ شروع ہو گیا ہے اور پھر سے ریفرنڈم کے لئے پیش کی جانے والی پٹیشن پر دس لاکھ سے زیادہ لوگوں کی دستخط ہو چکی ہے۔

  • UNI
  • Last Updated: Jun 25, 2016 11:03 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
بریگزٹ : برطانوی عوام میں تذبذب ، لاکھوں افراد کا دوبارہ ریفرنڈم کا مطالبہ
لندن : یورپی یونین کی رکنیت کے سوال پر برطانیہ میں اب دوسرا ریفرنڈم کرانے کا مطالبہ شروع ہو گیا ہے اور پھر سے ریفرنڈم کے لئے پیش کی جانے والی پٹیشن پر دس لاکھ سے زیادہ لوگوں کی دستخط ہو چکی ہے۔

لندن : یورپی یونین کی رکنیت کے سوال پر برطانیہ میں اب دوسرا ریفرنڈم کرانے کا مطالبہ شروع ہو گیا ہے اور پھر سے ریفرنڈم کے لئے پیش کی جانے والی پٹیشن پر دس لاکھ سے زیادہ لوگوں کی دستخط ہو چکی ہے۔ پارلیمنٹ میں کسی درخواست پر غور کرنے کے لئے ایک لاکھ لوگوں کی دستخط کی ضرورت ہوتی ہے لیکن دوبارہ ریفرنڈم کی درخواست پر اس سے زیادہ لوگوں نے دستخط کرد ی ہے۔

برطانیہ میں یورپی یونین کی رکنیت پر جمعہ کو ہونے والے ریفرنڈم میں 52 فیصد لوگوں نے یونین سے الگ ہونے کے حق میں ووٹ دیا تھا جبکہ 48 فیصد کی رائے یورپی یونین میں بنے رہنے کےحق میں تھی۔ ولیم لور ہیلے نے دوبارہ ریفرنڈم کرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے پٹیشن جاری کی تھی۔ پٹیشن میں لکھا گیا ہےکہ ہم دستخط کنندہ لوگ برطانوی حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ یہ اصول لاگو کرے کہ اگر بریگزٹ میں ووٹنگ کی شرح 75 فیصد سے کم ہو اور یورپی یونین میں بنے رہنے اور الگ ہونے کے لئے 60 فیصد سے کم ووٹ ہو تو دوبارہ ریفرنڈم کرایا جائے ۔

ادھر یورپی یونین سے علاحدگی کے تعلق سے ہر چند کہ برطانوی شہریوں نے انخلا کے حق میں فیصلہ سنایا ، لیکن یہ فیصلہ سنانے والے بظاہر اس کے نتائج سے پوری طرح بہرہ ور نہیں تھے۔ یہ انکشاف ان سوالات سے ہوتا ہے جو گوگل سرچ بار پر برطانوی عوام کی جانب سے کئے جا رہے ہیں۔ رجحانات کا پتہ دینے والےگوگل آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ کے مطابق برطانوی عوام نے سب سے زیادہ جو سوال پوچھا ہے وہ یہ ہے کہ یوروپی یونین سے ان کی علاحدگی کے بعد کیا ہوگا؟'

یہ رجحان مظہر ہے کہ زیادہ تر برطانوی شہریوں کو ریفرنڈم اور اپنے ووٹ سے مرتب ہونے والے اثرات کا پتہ نہیں تھا۔ایک پہلو یہ بھی ہے کہ ریفرنڈم کے نتائج سامنے آنے کے بعد کا منظر نامہ انہیں حیران کر گیااور وہ اپنے تذبذب اور اضطراب کا بر ملا اظہار کرنے لگے۔ بے یقینی کی کیفیت کو اس سوال میں محسوس کیا جا سکتا ہے کہ ’’کیا ہم یورپی یونین کا حصہ ہیں یا الگ ہو چکے ہیں‘‘۔ یہ سوال برطانوی عوام کے تذبذب کی دو ٹوک عکاسی کرتا ہے۔وہ جاننا چاہتے ہیں کہ تھا کیا! اور ہوا کیا !

ایک سرچ بہر حال برطانوی شہریوں کے آئرش پاسپورٹ کے حصول کے حوالے سے بھی تھی جو گوگل کے مطابق معاملے کی سنجیدگی کی جانب اشارہ کرتی ہے یعنی کچھ برطانوی شہریوں نے واقعی اپنی شہریت تبدیل کرنے کے بارے میں بھی سوچنا شروع کردیا ہے۔ برطانیہ کے یورپی یونین میں رہنے یا نکل جانے کے تعلق سے پولنگ پرسوں 23 جون کو ہوئی جس میں کوئی چار کروڑ 64 لاکھ سے زیادہ لوگوں نے حصہ لیا۔ نتائج کل سامنے آئے جو غیر متوقع نہیں پھر بھی حیران کن تھے۔

First published: Jun 25, 2016 11:03 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading