உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ڈیموکریٹک پارٹی کی خاتونMPالہان عمر نے پیش کی ہند مخالف تجویز، پاس ہونے کی نہیں ہے امید

    امریکی رکن پارلیمنٹ الہان عمر کا ہندوستان مخالف موقف برقرار۔

    امریکی رکن پارلیمنٹ الہان عمر کا ہندوستان مخالف موقف برقرار۔

    الہان عمر کے قرارداد پیش کرنے سے پہلے، ہندوستان نے مذہبی آزادی پر امریکی محکمہ خارجہ کی رپورٹ میں ان کی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ بین الاقوامی تعلقات میں بھی ’ووٹ بینک کی سیاست‘ کھیلی جا رہی ہے۔

    • Share this:
      واشنگٹن: امریکی پارلیمنٹ کے ایوان زیریں میں برسراقتدار ڈیموکریٹک پارٹی کی رکن پارلیمنٹ الہان عمر(ilhan Omar) نے ہندوستان مخالف تیور جاری رکھتے ہوئے ایک تجویز پیش کی ہے۔ اس میں وزیرخارجہ سے مذہبی آزادی کی مبینہ خلاف ورزی کے لئے ہندوستان کو خصوصی طور پر تشویش والا ملک قرار دینے کی مانگ کی گئی ہے۔ حالانکہ اس تجویز کے پاس ہونے کی امید نہیں ہے۔

      پارلیمنٹ کے ارکان راشدہ طالب اور جوآن ورگاس کے تعاون سے اس قرارداد میں بائیڈن انتظامیہ پر زور دیا گیا ہے کہ وہ بین الاقوامی مذہبی آزادی پر امریکی کمیشن کی سفارشات پر عمل درآمد کرے، جس نے ہندوستان کو مسلسل تین سال تک خصوصی تشویش کا حامل ملک قرار دینے کی کوشش کی۔

      یہی تجویز ضروری کارروائی کے لئے ایوان کی بیرون معاملوں کی کمیٹی کے پاس بھیج دی گئی ہے۔ رکن پارلیمنٹ الہان عمر نے ہندوستان کے مدعے پر پاکستان کی کھل کر حمایت کی ہے۔ ہندوستان سے جڑی کئی سماعتوں میں بھی عمر نے ہند مخالف موقف اختیار کیا ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      Indian Embassy In Kabul:کابل کے ہندوستانی سفارتخانے میں تعینات ہوئی تکنیکی ٹیم

      یہ بھی پڑھیں:
      BRICS Declaration:بات چیت سے حل ہویوکرین تنازعہ،دہشتگردی کیلئے نہ ہوافغان سرزمین کااستعمال

      ہندوستان پہلے ہی کرچکا ہے تنقید
      الہان عمر کے قرارداد پیش کرنے سے پہلے، ہندوستان نے مذہبی آزادی پر امریکی محکمہ خارجہ کی رپورٹ میں ان کی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ بین الاقوامی تعلقات میں بھی ’ووٹ بینک کی سیاست‘ کھیلی جا رہی ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان ارندم باغچی نے کہا تھا کہ ہندوستان سے متعلق یہ رپورٹ متعصبانہ ہے۔ ہندوستان نے بھی الہان عمر کے پی او کے دورے کی مذمت کی تھی۔ ہندوستان نے اس دورے کو ملک کی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اسے 'تنگ نظر' سیاست کا نام دیا۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: