کرتارپور کوریڈور وقت پر کھولنے کے تئیں پرعزم: پاکستان

وزیراعظم عمران خان نے ہندستان سے آنے والے سکھ عقیدت مندوں کو اس مقدس گردوارہ کے درشن کی اجازت دینے کی پہل کے تحت پاکستان کی طرف سے بنائے جانے والے کوریڈور کا کام گزشتہ برس شروع کیا تھا۔ یہ مذہبی مقام سرحد سے کچھ کلومیٹر دورپاکستان میں واقع ہے۔

Aug 22, 2019 10:11 PM IST | Updated on: Aug 22, 2019 10:13 PM IST
کرتارپور کوریڈور وقت پر کھولنے کے تئیں پرعزم: پاکستان

فائل فوٹو

پاکستان نے کہا ہے کہ وہ کافی عرصہ سے زیرالتوا کشمیر تنازعہ پر بڑھتی کشیدگی کے باوجود کرتارپور کوریڈور کھولنے کے اپنے منصوبہ پر قائم ہے۔ پاکستان میں واقع کرتارپور میں سکھوں کے پہلے گرو گرونانک دیو کے 550ویں ’پرکاش اتسو‘ پر یہ کوریڈور نومبر میں کھولاجانا ہے۔ اس کوریڈور کے کھل جانے سے ہندستان کی طرف سے سکھ پاکستان میں واقع اپنے پہلے گروپ کے اس مذہبی مقام پر بغیر ویزا کے درشن کرنے جا سکیں گے۔

وزارت داخلہ کے ترجمان محمد فیصل نے منگل کو ہفتہ وار پریس کانفرنس میں کہا کہ کرتارپور کوریڈور کے تعلق سے جلد ہی میٹنگ ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نومبر میں بابا گرو نانک دیو کے 550ویں یوم پیدائش پر اس کوریڈور کو ہندستان کے سکھ عقیدت مندوں کے لئے کھولنے کے لئے پرعزم ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے ہندستان سے آنے والے سکھ عقیدت مندوں کو اس مقدس گردوارہ کے درشن کی اجازت دینے کی پہل کے تحت پاکستان کی طرف سے بنائے جانے والے کوریڈور کا کام گزشتہ برس شروع کیا تھا۔ یہ مذہبی مقام سرحد سے کچھ کلومیٹر دورپاکستان میں واقع ہے۔ گردوارہ تک سکھ عقیدت مندوں کو بغیر ویزا آنے کی اجازت دینے کی تجویز ہے۔

ہندوستان کے ذریعہ  پانچ اگست کو جموں وکشمیر کے خصوصی درجہ کو ختم کئے جانے اور ریاست کو دو حصوں میں تقسیم کرکے مرکز کے زیرانتظام ریاست لداخ اور جموں۔کشمیر بنانے کے فیصلے سے دونوں ممالک کے مابین کشیدگی بہت بڑھ گئی ہے۔ اس کے بعد سے یہ سوال کھڑا ہونے لگا تھا کہ کیا کرتارپور کوریڈور مجوزہ منصوبہ کے تحت کھلے گا یا نہیں۔ ہندستان کے ساتھ اسٹریٹجک تعلقات کو کم کرنے اور دو طرفہ کاروبار معطل کئے جانے پر پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ اس کوریڈور کو مجوزہ پروگرام کے تحت کھولنے کے لئے پرعزم ہے۔ حالانکہ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ کیا ہندستان بھی منصوبہ کے تعلق سے پہلے کی تجویز پر قائم ہے یا نہیں۔

Loading...

Loading...