ہوم » نیوز » عالمی منظر

علاج کرانے آئیں خواتین کو دھوکے سے حاملہ کر دیتا تھا ڈاکٹر، نکلا 60 بچوں کا باپ

یہ ڈاکٹر دھوکہ دہی سے 60 سے زیادہ بچوں کا باپ بنا تھا۔ یہ ڈاکٹر نہ صرف اپنے نطفے کا استعمال عورتوں کو حاملہ کرنے کے لئے کرتا تھا بلکہ دھاندلی کے لئے انہیں ایسے کئی ہارمون بھی دیتا تھا جس سے انہیں محسوس ہو کہ وہ حاملہ ہو گئی ہیں۔

  • Share this:
علاج کرانے آئیں خواتین کو دھوکے سے حاملہ کر دیتا تھا ڈاکٹر، نکلا 60 بچوں کا باپ
علاج کرانے آئیں خواتین کو دھوکے سے حاملہ کر دیتا تھا ڈاکٹر، نکلا 60 بچوں کا باپ

ایمسٹرڈم۔ نیدرلینڈ (Netherlands) کے رجسوک شہر میں ایک فرٹیلٹی کلینک چلانے والے ڈاکٹر کی بڑی دھوکہ دہی کا انکشاف ہوا ہے۔ حالانکہ، اس انکشاف کی شروعات سال 2018 میں ہی ہو چکی تھی لیکن اب پتہ چلا ہے کہ یہ ڈاکٹر دھوکہ دہی سے 60 سے زیادہ بچوں کا باپ بنا تھا۔ یہ ڈاکٹر نہ صرف اپنے نطفے کا استعمال عورتوں کو حاملہ کرنے کے لئے کرتا تھا بلکہ دھاندلی کے لئے انہیں ایسے کئی ہارمون بھی دیتا تھا جس سے انہیں محسوس ہو کہ وہ حاملہ ہو گئی ہیں۔


مرر میں چھپی رپورٹ کے مطابق، ڈاکٹر جن کربات پر الزام ہے کہ انہوں نے نہ صرف بغیر اجازت لئے خواتین کو اپنے نطفے کے ذریعہ حاملہ کیا بلکہ اس کے ذریعہ وہ 60 سے زیادہ بچوں کے بائیولوجیکل باپ بھی بنے۔ ڈاکٹر جن کی موت 89 سال کی عمر میں سال 2017 میں ہی ہو چکی ہے لیکن ڈی این اے کی جانچ سے ان کے کلینک آنے والی خواتین کو مسلسل پتہ چل رہا ہے کہ ان کے بچے کے باپ ان کے شوہر نہیں ہیں۔


ڈاکٹر جن راٹرڈم میں ایک فرٹیلیٹی کلینک چلاتے تھے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق، ڈاکٹر کے کلینک نے تقریبا 6000 خواتین کو حاملہ ہونے میں مدد کی تھی اور تقریبا 10,000 سے زیادہ بچے اس کے ذریعہ پیدا بھی ہوئے۔ ڈاکٹر کے کارنامے سامنے آنے کے بعد جانچ چل رہی ہے کہ آخر ان میں سے کتنے بچے خود ان کے ہیں۔


جائے ہاف مین نام کے ایک شخص نے اس پوری دھاندلی کا پتہ لگانے میں کافی محنت کی ہے۔ ہاف مین بھی اس کی کلینک کے ذریعہ پیدا ہوئے تھے اور بچپن سے ہی انہیں لگتا تھا کہ وہ اپنے بھائی بہنوں میں سب سے الگ دکھتے ہیں۔ جائے ہاف مین کو یہ بات بچپن سے ہی پریشان کرتی تھی لیکن ان کے ماں باپ بھی اس کی کوئی ٹھوس وجہ نہیں بتا پا رہے تھے۔ حالانکہ ایک دن فیملی البم میں انہوں نے اپنے ماں باپ کے ساتھ ڈاکٹر جان کی فوٹو دیکھی اور ان کے ہوش اڑ گئے۔ جب وہ کلینک پہنچے تو انہیں بتایا گیا کہ وہ باپ کے نطفے سے ہی پیدا ہوئے ہیں۔

اس کے بعد بھی جائے ہاف مین کو بھروسہ نہیں ہوا اور انہوں نے اپنی ماں سے اس بارے میں بات کی۔ حالانکہ ماں نے یہی بتایا کہ اسپتال میں انہیں جو نطفے دکھائے گئے اس پر ان کے شوہر کے نام کا ہی لیبل لگا ہوا تھا۔ حالانکہ بعد میں صرف ہاف مین ہی نہیں بلکہ کئی اور کنبوں نے بھی اس طرح کی شکایتیں کرنی شروع کر دیں۔ سال  2009 میں کئی شکایتوں کے بعد اس سال کلینک کو بند کر دیا گیا اور جانچ شروع کی گئی۔ اس کے بعد اسی کلینک سے جڑے اپنی طرح کے ایک کیس سے ہاف مین نے رابطہ کیا اور ڈی این اے ٹیسٹ کرایا جس کے بعد دونوں ہاف سبلنگ نکلے۔ اس کے بعد مسلسل لوگوں سے رابطہ کیا گیا اور ٹیسٹ کے بعد 60 سے زیادہ لوگ ابھی تک ڈاکٹر جن کی بائیولوجیکل اولاد نکل چکے ہیں۔
First published: May 12, 2020 09:20 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading