உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جموں و کشمیر پر اسلامی تعاون تنظیم کا کسی بھی طرح ریمارکس قابل قبول نہیں: وزارت خارجہ

    وزارت خارجہ کے ترجمان ارندم باگچی Arindam Bagchi نے کہا کہ ’’ہم او آئی سی کے جنرل سیکریٹریٹ کی طرف سے جاری کردہ جموں و کشمیر کے ایک اور ناقابل قبول حوالہ کو واضح طور پر مسترد کرتے ہیں‘‘۔

    وزارت خارجہ کے ترجمان ارندم باگچی Arindam Bagchi نے کہا کہ ’’ہم او آئی سی کے جنرل سیکریٹریٹ کی طرف سے جاری کردہ جموں و کشمیر کے ایک اور ناقابل قبول حوالہ کو واضح طور پر مسترد کرتے ہیں‘‘۔

    وزارت خارجہ کے ترجمان ارندم باگچی Arindam Bagchi نے کہا کہ ’’ہم او آئی سی کے جنرل سیکریٹریٹ کی طرف سے جاری کردہ جموں و کشمیر کے ایک اور ناقابل قبول حوالہ کو واضح طور پر مسترد کرتے ہیں‘‘۔

    • Share this:
      بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جی پی) کی جانب سے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق دفعہ 370 کی منسوخی کے دو برس مکمل ہونے پر ہندوستان نے اسلامی تعاون تنظیم (Organization of Islamic Cooperation ) کے جنرل سیکریٹریٹ کی طرف سے جموں و کشمیر پر دیئے گئے ریمارکس پر سخت اعتراض کیا ہے۔

      او آئی سی میں پاکستان کی جانب سے اس اقدام کے شروع کیے جانے کے بعد ہندوستان نے بین الاقوامی اسلامی تنظیم سے کہا کہ وہ ’’ہندوستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی اجازت دینے سے باز رہے‘‘۔

      اس بیان کا جواب دیتے ہوئے وزارت خارجہ کے ترجمان ارندم باگچی Arindam Bagchi نے کہا کہ ’’ہم او آئی سی کے جنرل سیکریٹریٹ کی طرف سے جاری کردہ جموں و کشمیر کے ایک اور ناقابل قبول حوالہ کو واضح طور پر مسترد کرتے ہیں‘‘۔

      جمعرات کو او آئی سی نے ایک پریس ریلیز جاری کی جس میں ہندوستان سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ 5 اگست 2019 کو جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو منسوخ کردہ فیصلہ کو واپس لیں او اس خصوصی حیثیت کو بحال کرے۔

      او آئی سی کی پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کا جنرل سیکریٹریٹ ان تمام اقدامات کو منسوخ کرنے کے مطالبے کا اعادہ کرتا ہے۔ او آئی سی کو یہ یاد دلاتے ہوئے کہ ان کے پاس اس معاملے پر تبصرہ کرنے کی کوئی جگہ نہیں ہے، ہندوستان نے کہا کہ ’’او آئی سی کے پاس جموں و کشمیر کے مرکزی علاقے سے متعلق معاملات میں کوئی مقام نہیں ہے، جو ہندوستان کا ایک لازمی حصہ ہے‘‘۔
      انہوں نے مزید کہا کہ ’’اس بات کا اعادہ کیا گیا ہے کہ او آئی سی کے جنرل سیکرٹریٹ کو ہندوستان کے اندرونی معاملات پر تبصرے کے لیے اپنے پلیٹ فارم سے فائدہ اٹھانے کی اجازت دینے سے گریز کرنا چاہیے۔

      او آئی سی نے تنازع کو اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق حل کرنے کی ضرورت کا اعادہ کیا۔ ہندوستان کا موقف ہے کہ مسئلہ کشمیر دو طرفہ مسئلہ ہے جسے پاکستان اور بھارت کے درمیان حل ہونا چاہیے۔ دہلی اپنا موقف برقرار رکھے ہوئے ہے کہ اس معاملے میں کسی تیسرے فریق کی مداخلت نہیں ہو سکتی۔

      تاہم او آئی سی کے جنرل سیکریٹریٹ نے ’حق خود ارادیت کی تلاش میں جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ اپنی یکجہتی کا اعادہ کیا۔ یہ ہندوستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر کے متنازعہ علاقے کی آبادیاتی ساخت کو تبدیل کرنے اور اس کے باشندوں کے بنیادی انسانی حقوق کا احترام کرنے پر زور دیتا ہے‘۔

      او آئی سی کے بیان میں کہا گیا ہے کہ جنرل سیکرٹریٹ نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق جموں و کشمیر کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے اپنی کوششیں بڑھائے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: