உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ڈونالڈ ٹرمپ کا بڑا بیان ، امریکہ نے افغان فوجیوں کو لڑنے کیلئے ’رشوت‘ کی طرح دی بھرپور رقم

    ڈونالڈ ٹرمپ کا بڑا بیان ، امریکہ نے افغان فوجیوں کو لڑنے کیلئے ’رشوت‘ کی طرح دی بھرپور رقم ۔ فائل فوٹو ۔ (AP)

    ڈونالڈ ٹرمپ کا بڑا بیان ، امریکہ نے افغان فوجیوں کو لڑنے کیلئے ’رشوت‘ کی طرح دی بھرپور رقم ۔ فائل فوٹو ۔ (AP)

    سابق امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ مجھے مختلف لوگوں سے کچھ بہت بری معلومات ملی ہیں۔ سچ یہ ہے کہ وہ دنیا میں سب سے زیادہ تنخواہ لینے والے فوجیوں میں شامل ہیں ۔ وہ تنخواہ کے لیے یہ سب کر رہے تھے، کیونکہ ایک بار جب ہم رک گئے، ایک بار ہم چلے گئے تو انہوں نے بھی لڑنا بند کر دیا۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:
      ماسکو : سابق امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ نے افغان فوجیوں کو لڑنے کے لیے بہت زیادہ رقم ادا کی، اس لیے جب امریکی سیکورٹی فورسز نے افغانستان سے انخلا کیا تو مقامی فوجیوں نے لڑنا بند کر دیا۔ ٹرمپ نے فاکس نیوز سین ہینٹی کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا ’’مجھے مختلف لوگوں سے کچھ بہت بری معلومات ملی ہیں۔ سچ یہ ہے کہ وہ دنیا میں سب سے زیادہ تنخواہ لینے والے فوجیوں میں شامل ہیں ۔ وہ تنخواہ کے لیے یہ سب کر رہے تھے، کیونکہ ایک بار جب ہم رک گئے، ایک بار ہم چلے گئے تو انہوں نے بھی لڑنا بند کر دیا۔ ہر کوئی بہادر ہے، لیکن سچ یہ ہے کہ ہمارا ملک افغان فوجیوں کو بہت زیادہ پیسہ دے رہا تھا، اس لیے ہم ان کو لڑنے کے لیے ایک طرح کی رشوت دے رہے تھے ۔

      انہوں نے کہا کہ یہ بہت اچھی بات ہے کہ ہم افغانستان سے نکل رہے ہیں، لیکن سیکورٹی فورسز کی واپسی کو اب تک کسی نے بھی صدر جو بائیڈن کی طرح خراب طریقے سے نہیں سنبھالا ۔ میرا خیال ہے کہ یہ ہمارے ملک کی تاریخ کی سب سے بڑی شرمندگی ہے ۔

      واضح رہے طالبان نے 15 اگست کو افغانستان کا مکمل کنٹرول حاصل کر لیا۔ افغان صدر اشرف غنی نے استعفیٰ دینے کا اعلان کرتے ہوئے ملک چھوڑ دیا۔ مسٹر غنی نے کہا کہ انہوں نے تشدد روکنے کے لئے یہ فیصلہ کیا ، کیونکہ دہشت گرد دارالحکومت کابل پر حملہ کرنے کے لیے تیار تھے۔ ان واقعات کے بعد بیشتر ممالک نے وسط ایشیائی ملک میں اپنے سفارتی مشن کم یا خالی کر دیے ہیں ۔

      بائیڈن اور جانسن جی ۔7 میٹنگ بلانے پر متفق

      ادھر امریکہ کے صدر جو بائیڈن اور برطانیہ کے وزیراعظم بورس جانسن افغانستان کے معاملے پر مشترکہ حکمت عملی وضح کرنے کے لئے اگلے ہفتے ورچوئل طریقے سے جی۔ 7 کی میٹنگ بلانے پر متفق ہوئے ہیں۔ یہ اطلاع وائٹ ہاؤس نے پریس ریلیز جاری کرکے دی۔

      وائٹ ہاؤس کی جانب سے منگل کو جاری پریس ریلیز میں کہا گیا کہ دونوں لیڈروں نے مشترکہ حکمت عملی اور نظریئے پر تبادلہ خیال کرنے کے لئے اگلے ہفتے جی۔7 لیڈروں کی ایک ورچوئل میٹنگ منعقد کرنے پر اتفاق کیا۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: