உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    خشوگی-گمشدگی/قتل معاملہ میں شاہ سلمان کے لاعلمی کے اظہار کے بعد اب ٹرمپ نے کیا یہ انکشاف

    فائل فوٹو

    فائل فوٹو

    گذشتہ ہفتے ترکی نے جمال خشوگی کی گمشدگی کی تحقیقات کرنے کے لیے مشترکہ ٹیم تشکیل دینے کی سعودی تجویز کو قبول کر لیا تھا

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      ترکی میں عرب نژاد صحافی جمال خشوگی کی گمشدگی /قتل کے ہر روز نئے نئے انکشاف ہورہے ہیں۔ اس سلسلہ میں اب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے شاہ سلمان کے ساتھ فون پر بات چیت کے بعد کہا ہے کہ سعودی صحافی جمال خشوگی کی گمشدگی کے پیچھے کچھ’بدمعاش قاتل‘ بھی ہو سکتے ہیں۔ منگل کو شاہ سلمان سے بات کرنے کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بتایا کہ سعودی حکومت اس بات سے بالکل لاعلم ہے کہ خشوگی کے ساتھ کیا ہوا۔


      امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ’ ’سعودی عرب کے شاہ سلمان سے بات کی ہے لیکن انھوں نے اس بات سے لاعلمی کا اظہار کیا کہ ’ہمارے سعودی شہری‘ کے ساتھ کیا ہوا۔ انھوں نے کہا کہ وہ اس سوال کے جواب کے لیےترکی کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔ میں فوری طور پر سعودی عرب کے بادشاہ سے ملنے کے لیے وزیر خارجہ مائیک پومپیوو کو روانہ کر رہا ہوں۔‘‘ بی بی سی کے مطابق سعودی عرب پر مکمل وضاحت فراہم کرنے کے لیے سفارتی دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ پیر کو سعودی عرب کے شاہ سلمان نے اس معاملے کی تحقیقات کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔ رائٹر نے ایک اہلکار کے حوالہ سے بتایا ہے کہ ’’شاہ سلمان نے جمال خشوگی کے معاملہ میں سرکاری پراسیکیوٹر کو استنبول میں مشترکہ ٹیم کی معلومات کی بنیاد پر اندرونی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔‘‘


      خیال رہے کہ گذشتہ ہفتے ترکی نے جمال خشوگی کی گمشدگی کی تحقیقات کرنے کے لیے مشترکہ ٹیم تشکیل دینے کی سعودی تجویز کو قبول کر لیا تھا۔ یہ تازہ اقدامات ایسے وقت میں کیے جا رہے ہیں جب بہت سی بڑی کاروباری شخصیات رواں ماہ سعودی عرب میں ہونے والی ایک بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت سے انکار کر  رہی ہیں۔ جے پی مورگن، جیمی ڈیمون ان سرکردہ شخصیات میں شامل ہیں جنھوں نے اس کانفرنس میں شرکت سے انکار کر دیا ہے۔


      ترکی میں سعودی قونصل خانے کی تلاشی کے لیے ترک عملہ عمارت میں داخل ہو گیا تاہم صحافیوں نے اس سے چند گھنٹے قبل صفائی کرنے والے عملے کو اندر جاتے دیکھا۔ سعودی عرب نے گذشتہ ہفتے ترک حکام کو عمارت کی تلاشی لینے کی اجازت دی تھی لیکن اس کا کہنا تھا کہ یہ صرف سطحی چھان بین ہوگی۔ مگر ترکی نے اس پیشکش کو مسترد کر دیا تھا۔ صباح اخبار کا کہنا ہے کہ تحقیقات کرنے والے لومینل نامی کیمیکل کے ساتھ تلاشی لینا چاہتے ہیں۔ اس کیمیکل سے خون کے نشان تلاش کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔ حکام کے مطابق سعودی شاہ سلمان اور ترکی کے صدر رجب طیب اردگان کے درمیان اتوار کو ٹیلی فون کے ذریعے رابطہ ہوا، جس میں انھوں نے دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کی اہمیت پر زور دیا۔

      First published: