وزیراعظم مودی کے ’’آرٹیکل 370‘‘ ماسٹراسٹروک پرطالبان کا ردعمل۔ طالبان نے پاکستان کو دیا یہ مشورہ

ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ افغانستان کو ہندوستان اور پاکستان کے مابین مسابقت کا پلیٹ فارم نہیں بنایا جانا چاہئے۔ سمجھا جارہاہے کہ طالبان کے ترجمان پاکستان کےاپوزیشن لیڈر شہباز شریف کے اس بیان پراپنا ردعمل کا اظہارکررہے تھے

Aug 09, 2019 05:32 PM IST | Updated on: Aug 09, 2019 05:32 PM IST
وزیراعظم مودی کے ’’آرٹیکل 370‘‘ ماسٹراسٹروک پرطالبان کا ردعمل۔ طالبان نے پاکستان کو دیا یہ مشورہ

علامتی تصویر

جموں و کشمیرکو خصوصی حیثیت دینے والی حکومت ہند کی جانب سے آرٹیکل 370 کو ختم کرنے پر افغان طالبان نے ردعمل ظاہر کیاہے۔ افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیرکے آرٹیکل 370 کو بعض لوگوں کی جانب سے افغانستان سے جوڑنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ لیکن میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اس کا افغانستان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ذبیح اللہ مجاہد نے اس معاملے پر ہندوستان اور پاکستان سے امن کی اپیل کی ہے۔

ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ افغانستان کو ہندوستان اور پاکستان کے مابین مسابقت کا پلیٹ فارم نہیں بنایا جانا چاہئے۔ سمجھا جارہاہے کہ طالبان کے ترجمان پاکستان کےاپوزیشن لیڈر شہباز شریف کے اس بیان پراپنا ردعمل کا اظہارکررہے تھے جس میں انہوں نے ہند۔پاک کی صورتحال کا موازنہ کیا تھا۔ شریف نے پاکستان کی عمران حکومت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ ’’ایسا کیوں محسوس ہوتا ہے کہ افغانی لوگ کابل میں بیٹھ کرامن سے لطف اندوزہورہے ہیں ، لیکن کشمیر میں خون بہہ رہا ہے؟‘‘ ہمیں اس کی منظوری نہیں ہے۔ اس بیان کے بعد ، افغان شہریوں نے سوشل میڈیا پر برہمی کا اظہار کیاہے۔‘‘

Loading...

پاکستان کو امریکہ سے مدد کی ہے امید : درحقیقت، پاکستان، مسئلہ کشمیر پرامریکہ سے امید لگائے ہوئے ہیں۔پاکستان کا مانناہے کہ اگروہ افغانستان میں امن عمل کو فروغ دیتا ہے تو مسئلہ کشمیر پرامریکہ کو مدد ملے گی۔اسی لیے وہ جموں وکشمیر سے آرٹیکل 370 کوہٹانے پرہندوستان کو نشانہ بنارہاہے۔ حال ہی میں امریکی صدرڈونالڈ ٹرمپ سے ملاقات کے دوران وزیراعظم عمران خان نے پریس کانفرنس کے دوران مسئلہ کشمیرپرامریکی صدرکوثالثی بننے کی پیشکش کردی تھی ۔

طالبان پاکستان کو اپنامحافظ سمجھتے ہیں: ہم آپ کو بتادیں کہ پچھلے کئی سال سے، طالبان پاکستان کو اپنا سرپرست مان رہے ہیں۔ پاکستان نے اس کی سرزمین پرطالبان دہشت گردوں کی نشوونما اور تربیت میں طالبان کی بہت مدد کی تھی۔ اسی لیے اب کشمیرمعاملہ پرپاکستان پرطالبان کی مدد چاہتاہے۔

پاکستان نے ہندوستانی سفیرکوواپس بھیج دیا: ہندوستانی حکومت نے پیر کے روز جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت منسوخ کردی تھی۔جس کے بعد پاکستان کی طرف سے شدید ناراضگی کا اظہار کیا گیا۔ پاکستان نےدنیا کے اہم ممالک سے بات چیت بھی کی ۔ لیکن کوئی بھی مثبت نتائج نہیں آئے ۔ آخرکار اپنی ناراضگی ظاہرکرنے کے لیے پاکستان نے ہندوستان کے ساتھ سفارتی تعلقات کے لئے متعدد اقدامات اٹھائے اور ہندوستانی سفیر کو بھی ملک سےہندوستان واپس بھیج دیا۔

Loading...