اپنا ضلع منتخب کریں۔

    سیول میں ہیلووین کے دوران بھیڑ بے قابو ہونے سے ہوا حادثہ، 149 کی موت،150 زخمی

    سیول میں ہیلووین کے دوران بھیڑ بے قابو ہونے سے ہوا حادثہ، 149 کی موت،150 زخمی

    سیول میں ہیلووین کے دوران بھیڑ بے قابو ہونے سے ہوا حادثہ، 149 کی موت،150 زخمی

    74 نعشوں کو اسپتال میں بھیج دیا گیا ہے، جب کہ باقی نعشوں کو سڑکوں پر رکھا گیا ہے۔ واقعہ کے بعد 400 سے زیادہ ایمرجنسی ملازمین اور 140 گاڑیاں زخمیوں کے علاج کے لیے سڑکوں پر تعینات کیے گئے ہیں۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • New Delhi, India
    • Share this:
      جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول کے ایٹاون میں ہفتہ کو ایک مقبول نائٹ اسپاٹ (ہیلووین) پر زبردست بھیڑ جمع ہونے کے بعد بھگدڑ مچ گئی۔ بتایا جارہا ہے کہ فلمی اور ٹی وی ستاروں کو دیکھنے کے چکر میں ہیلووینپر جمع ہوئی بھیڑ بے قابو ہوگئی اور بھگدڑ مچ گئی جس سے بڑا حادثہ ہوگیا۔ ہیلووین بھگدڑ میں مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 149 ہوگئی ہے۔ وہیں، 150 دیگر زخمی بتائے جارہے ہیں۔ عہدیداروں کے حوالے سے یونہاپ خبر رساں ایجنسی نے یہ اطلاع دی ہے۔

      مقامی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ سیول میں پیکڈ ہیلووین تقریب کے دوران بھیڑ بڑھ جانے سے بھگدڑ مچ گئی، جس میں کئی لوگ زخمی ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کورونا دور کے عبد سے یہ پہلا موقع تھا، جب ہیلووین پر اتنی بڑی تعداد میں مجمع اکٹھا ہوا تھا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق، ہیملٹن ہوٹل میں ہیلووین منانے کے لئے کئی سیلبریٹیز کے جمع ہونے کی خبر تھی۔ بھیڑ ستاروں کو دیکھنے کے لیے سنکری گلی میں پہنچ گئی۔ سیول میٹروپولیٹن انتطامیہ نے لوگوں سے اپنے گھر لوٹنے کی اپیل کی ہے۔ جنوبی کوریا کے صدر یون سوک یے اول نے زخمیوں کا تیزی سے علاج یقینی بنانے کا حکم دیا ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      ایلون مسک کا اعلان، بند اکاونٹ کنٹینٹ ماڈریشن کاونسل کے جائزے کے بعد ہی ہوں گے بحال

      یہ بھی پڑھیں:
      ایران-مظاہرین کے ساتھ نارواسلوک پریواین میں اٹھی آواز، لگے خامنہ ای مردہ بادکے نعرے

      بڑھ سکتی ہے حادثے میں مرنے والوں کی تعداد
      سیول کے یونگسن فائر بریگیڈ محکمہ کے سربراہ چوئی سے اونگ بی اوم نے کہا کہ تہوار میں ایک لاکھ سے زیادہ لوگ شامل ہوئے تھے، اس لیے مرنے والوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے اور زخمیوں کی حالت بھی تشویشناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ 74 نعشوں کو اسپتال میں بھیج دیا گیا ہے، جب کہ باقی نعشوں کو سڑکوں پر رکھا گیا ہے۔ واقعہ کے بعد 400 سے زیادہ ایمرجنسی ملازمین اور 140 گاڑیاں زخمیوں کے علاج کے لیے سڑکوں پر تعینات کیے گئے ہیں۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: