உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Earthquake In Afghanistan:مغربی افغانستان میں بھیانک زلزلے کےبعد 26ہلاکتوں کی تصدیق

    علامتی تصویر۔(نیوز18ہندی)۔

    علامتی تصویر۔(نیوز18ہندی)۔

    حکام نے خدشہ ظاہر کیا کہ مرنے والوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے کیونکہ زلزلے سے متاثرہ دور دراز دیہاتوں میں راحت اور بچاؤ کا کام ابھی بھی جاری ہے۔ صوبے کے ثقافت اور اطلاعات کے محکمے کے سربراہ باس محمد سروری نے بتایا کہ زلزلے سے ہونے والی تباہی میں کئی مکانات گر گئے

    • Share this:
      پیر کی سہ پہر افغانستان (Afghanistan)کے مغرب میں واقع صوبہ بادغیس(Badghis)میں زلزلے 2جھٹکوں نے ترکمانستان سے ملحقہ سرحدی علاقے دھل اٹھے۔ زلزلے کے بعد پیش آنے واکے مختلف واقعات میں اب تک 26 افراد ہلاکت کی تصدیق ہوچکی ہے۔ ایک مقامی اہلکار نے یہ اطلاع دی۔ حکام نے خدشہ ظاہر کیا کہ مرنے والوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے کیونکہ زلزلے سے متاثرہ دور دراز دیہاتوں میں راحت اور بچاؤ کا کام ابھی بھی جاری ہے۔ صوبے کے ثقافت اور اطلاعات کے محکمے کے سربراہ باس محمد سروری نے بتایا کہ زلزلے سے ہونے والی تباہی میں کئی مکانات گر گئے ۔ امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق 5.3 کی شدت کا پہلا زلزلہ مقامی وقت کے مطابق پیر کے دوپہر 2 بجے کے قریب محسوس کیا گیا جب کہ 4.9 کا دوسرا زلزلہ شام 4 بجے کے قریب محسوس کیا گیا۔

      صوبے کے محکمہ ثقافت اور اطلاعات کے سربراہ باس محمد سروری کے مطابق صوبے کے جنوبی حصے میں واقع ضلع کدیس کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا اور یہاں سب سے زیادہ جانی نقصان ہواہے۔ اس سے قبل جمعے کی شب پاکستان کے شمالی علاقوں میں 5.6 شدت کے زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے تھے۔ پاکستان کے محکمہ موسمیات کے مطابق اس میں کسی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔


      پاکستا ن میں محکمہ موسمیات کے مطابق ملک میں 5.6 شدت کے زلزلے کا مرکز افغانستان تاجکستان سرحدی علاقے میں 100 کلومیٹر کی گہرائی میں تھا۔ پشاور، مانسہرہ، بالاکوٹ اور چارسدہ سمیت خیبرپختونخوا کے کئی شہروں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔ زلزلے کے جھٹکے شمال میں گلگت بلتستان کے علاقے میں بھی محسوس کیے گئے۔

      انڈونیشیا میں بھی زلزلے کے جھٹکے

      جمعہ کو انڈونیشیا کے مرکزی جزیرے جاوا میں زبردست زلزلہ آیا جس سے دارالحکومت جکارتہ میں عمارتیں لرز اٹھیں تاہم فوری طور پر جان و مال کے کسی بڑے نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے، حکام کا کہنا ہے کہ اس زلزلے سے سونامی کا کوئی خطرہ نہیں تھا۔
      Published by:Mirzaghani Baig
      First published: