ہوم » نیوز » عالمی منظر

Bonfire Festival:اسرائیل میں مذہبی ایونٹ بون فائرفیسٹیول کےدوران مچی بھگدڑ،44 ہلاک

یہاں موجود ایک زائر نے بتایا کہ ’’ہم نے سوچا کہ شاید کسی مشکوک بم کے بارے میں انتبا دی جارہی ہے۔ کسی نے سوچا بھی نہیں تھا کہ اس مقدس مقام پر اتنی بھیانک تباہی ہوسکتی ہے۔ اس کے بعد خوشی ماتم میں تبدیل ہوگئی۔ گویا ایک بہت بڑی روشنی گہری تاریکی میں بدل گئی‘‘۔

  • Share this:
Bonfire Festival:اسرائیل میں مذہبی ایونٹ بون فائرفیسٹیول کےدوران مچی بھگدڑ،44 ہلاک
صحت سے متعلق اہلکاروں کی جانب سے انتبا کے باوجود ہجوم جمع ہو گیا اور کئی جگہوں پر کورونا وائرس (کووڈ۔19) کے پروٹوکال کی خلاف ورزی بھی کی گئی۔تصویر :رائٹر ٹویٹر

جمعہ کو اسرائیل میں مذہبی آتش بازی کے ایک میلے میں بھگدڑ مچی۔ اسی دوران44 افراد ہلاک ہوگئے۔ جبکہ 100سے زیادہ افراد زخمی ہوگئے ہحیں۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو (Benjamin Netanyahu) نے اسے بھاری تباہی کے طورپر بیان کیاہے۔لاکھوں الٹرا آرتھوڈوکس یہودی (ultra-Orthodox Jews) دوسری صدی کے بابا ربی شمعون بار یوشی (Rabbi Shimon Bar Yochai) کے ماؤنٹ میرون قبر (Mount Meron tomb) پر سالانہ لگ بومر (Lag B'Omer) کی تقریبات کے لئے جمع ہوئے تھے۔ جہاں گذشتہ رات ہی سے مذہبی عبادات اور رقص جاری تھا۔


صحت سے متعلق اہلکاروں کی جانب سے انتباہ کے باوجود ہجوم جمع ہو گیا اور کئی جگہوں پر کورونا وائرس (کووڈ۔19) کے پروٹوکال کی خلاف ورزی بھی کی گئی۔ اسی دوران اس پروگرام کے منتظمین نے لوگوں کو بار بار اپیل کی کہ ہجومی شکل اختیار نہ جائے۔ اسی دوران بھکڈر مچ گئی۔



’’خوشی ماتم میں تبدیل ہوگئی‘‘
یہاں موجود ایک زائر نے بتایا کہ ’’ہم نے سوچا کہ شاید کسی مشکوک بم کے بارے میں انتبا دی جارہی ہے۔ کسی نے سوچا بھی نہیں تھا کہ اس مقدس مقام پر اتنی بھیانک تباہی ہوسکتی ہے۔ اس کے بعد خوشی ماتم میں تبدیل ہوگئی۔ گویا ایک بہت بڑی روشنی گہری تاریکی میں بدل گئی‘‘۔

انھوں نے بتایا کہ ’’ربی شمعون کہا کرتے تھے کہ وہ دنیا کو ختم کر سکتے ہیں۔ اگر وہ اپنی برتری کے روز ہی اس حکم کو منسوخ کرنے میں کامیاب نہیں ہوے تو ہمیں حقیقی روح تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔"

واضح رہے کہ اسرائیل کے میرون پہاڑ (Mount Meron) میں واقع لگ بیئر لوگوں کے سب سے بڑے اجتماعات میں سے ایک سمجھا جاتا تھا۔


سو سے زیادہ زخمی:
میگن ڈیوڈ ایڈم (Magen David Adom) ایمبولینس سروس کا کہنا ہے کہ 103 افراد زخمی ہوئے ہیں، جن میں درجنوں شدید زخمی ہیں۔ چینل 12 نے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 44 بتائی ہے۔ پولیس نے اس مقام کو مکمل طور پر بند کردیا ہے اور فوجی ہیلی کاپٹر کی مدد سے زخمیوں کو اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔

یہ مقبرہ یہودی دنیا کے سب سے مقدس مقامات میں سے ایک سمجھا جاتا ہے اور یہ ایک سالانہ زیارت گاہ بھی ہے۔

سوشل میڈیا پر پوسٹ کی جانے والی ویڈیوز میں انتشار انگیز مناظر دکھائے گئے۔ جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ الٹرا آرتھوڈوکس کے لوگ جوق در جوق باہر آرہے ہیں۔
Published by: Mohammad Rahman Pasha
First published: Apr 30, 2021 10:03 AM IST