ہوم » نیوز » عالمی منظر

ایران میں درجنوں نابالغ بچے سزائے موت کے منتظر: ایمنسٹی انٹرنیشنل کا انکشاف

دبئی: ایمنسٹی انٹرنیشنل کی ایک رپورٹ کے مطابق، ایران میں اٹھارہ سال سے کم عمر کے درجنوں بچے سزائے موت کا انتظار کر رہے ہیں۔

  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
ایران میں درجنوں نابالغ بچے سزائے موت کے منتظر: ایمنسٹی انٹرنیشنل کا انکشاف
نائیجیریا میں ایمنسٹی کی سربراہ اوسائی اوزیغو نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ قانون نافذ کروانے کے لئے فضائی حملے کرنا کوئی دانشمندانہ آپشن نہیں ہے۔

دبئی۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی ایک رپورٹ کے مطابق، ایران میں اٹھارہ سال سے کم عمر کے درجنوں بچے سزائے موت کا انتظار کر رہے ہیں۔ ان بچوں کو مختلف جرائم کے تحت اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب ان کی عمریں اٹھارہ سال سے بھی کم تھیں۔


لندن میں واقع ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ایک سو دس صفحات پر مشتمل اپنی رپورٹ یہ انکشاف بھی کیا ہے کہ ایران میں دوہزار پانچ اور دوہزار پندرہ کے درمیان کم ازکم تہتر نابالغ مجرموں کو پھانسی دی گئی ہے جن میں سے چار کو دوہزار پندرہ میں پھانسی کے پھندے پر لٹکایا گیا۔


حال ہی میں ایمنسٹی کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق، ایران دنیا بھر میں سب سے زیادہ سزائے موت دینے والے ممالک میں سے ایک ہے اور دوہزار چودہ میں اس کا اس معاملہ میں چین کے بعد دوسرا نمبر ہے۔ ایران میں پھانسی کی زیادہ تر سزا منشیات کی اسمگلنگ کے لئے ہوتی ہے۔ ایمنیسٹی انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ میں انچاس ایسے نابالغ مجرموں کے نام اور مقامات پیش کئے ہیں جنہیں کبھی بھی پھانسی کے پھندے پر لٹکایا جا سکتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ تعداد اور بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔ دوسری طرف اقوام متحدہ کی دوہزار چودہ کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایران میں ایک سو ساٹھ نابالغ مجرم اپنے خلاف سزائے موت پر عملدرآمد کے منتظر ہیں۔


بین الاقوامی تنظیم کی اس رپورٹ میں ایران میں نابالغ بچوں کو سزائے موت دینے سے متعلق فوجداری قوانین میں اصلاحات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ یہ قوانین دو ہزار تیرہ میں اختیار کئے گئے تھے۔ تنظیم کے مطابق، یہ اصلاحات انصاف کی شرطیں پوری نہیں کرتیں ، تنظیم کا کہنا ہے کہ ان اصلاحات سے امید تھی کہ ایران میں سزائے موت میں اب کمی واقع ہو گی۔ لیکن تقریباً تین سال کا عرصہ گزرنے کے بعد اب بھی ایران میں نو عمروں کے خلاف سزائے موت پر عمل کیا جا رہا ہے۔
First published: Jan 27, 2016 01:40 PM IST