உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اردو کے ممتاز اسکالر، ادیب، شاعر اور ناقد اسلم فرخی کا انتقال

    اسلام آباد۔ اردو کے ممتاز اسکالر، ادیب، شاعر اور ناقد کے علاوہ ایک سے زائد کتابوں کے مصنف  ڈاکٹر اسلم فرخی کا  کراچی میں انتقال ہو گیا۔

    اسلام آباد۔ اردو کے ممتاز اسکالر، ادیب، شاعر اور ناقد کے علاوہ ایک سے زائد کتابوں کے مصنف ڈاکٹر اسلم فرخی کا کراچی میں انتقال ہو گیا۔

    اسلام آباد۔ اردو کے ممتاز اسکالر، ادیب، شاعر اور ناقد کے علاوہ ایک سے زائد کتابوں کے مصنف ڈاکٹر اسلم فرخی کا کراچی میں انتقال ہو گیا۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      اسلام آباد۔ اردو کے ممتاز اسکالر، ادیب، شاعر اور ناقد کے علاوہ ایک سے زائد کتابوں کے مصنف  ڈاکٹر اسلم فرخی کا  کراچی میں انتقال ہو گیا۔ وہ 93 برس کے تھے۔ ڈاکٹر اسلم فرخی 23 اکتوبر 1923ء کو لکھنؤ میں پیدا ہوئے۔ان کا سابق وطن فتح گڑھ، ضلع فرخ آباد تھا۔ انہوں نے ایسے گھرانے میں آنکھ کھولی جو صدیوں سے علم و ادب کا گہوارہ تھا۔ ان کے خاندان کے ہر شخص کو شعرو سخن سے لگاؤ رہا ہے۔ ان کے دادا، والد، پھوپھی زاد بھائی اور یہاں تک کہ ان کی بہنیں بھی شعر کہا کرتی تھیں۔


      ان کا ننھیال بھی اشاعتی کاموں میں مشغول تھا لہٰذا وہاں بھی ادبی ماحول تھا۔ ایسے ادبی ماحول کا اثر اسلم فرخی پر پڑنا فطری تھا یا یہ کہیے کہ ذوقِ سخن ان کو خاندانی ورثے میں ملا تھا۔ ان کے نمایاں کاموں میں محمد حسین آزاد۔ حیات و تصانیف، بزم ِ شاہد، آنگن میں ستارے، گل دستہ احباب، لال سبز کبوتروں کی چھتری شامل ہیں۔


      ڈاکٹر فرخی نے سندھ مسلم کالج کراچی، سینٹرل گورنمنٹ کالج کراچی اور کراچی یونیورسٹی میں طالب علموں کو اردو پڑھائی۔ کراچی یونیورسٹی میں وہ ناظم شعبہ تصنیف و تالیف و ترجمہ کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیتے رہے۔ اس کے علاوہ کراچی یونیورسٹی میں رجسٹرارکے طور پر بھی کام کیا۔ انہوں نے پی ایچ ڈی اور ایم فل کے متعدد مقالوں کی نگرانی کے فرائض انجام دیئے ہیں۔ زبان و ادب کے استاد اور معلم کی حیثیت سے ان کا بلند مرتبہ تھا۔

      First published: