ہوم » نیوز » عالمی منظر

پاکستان میں آئی وی ایف تکنیک ہے ہزاروں کا سہارا، ڈاکٹر رشید کے لئے آسان نہیں تھا اس کا آغاز

پاکستان (Pakistan) میں آج بھلے ہی آئی وی ایف (IVF) ہزاروں لوگوں کا سہارا ہو، لیکن شروعات میں اسے سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ کچھ لوگوں نے اسے ’حرام‘ بتایا تھا۔

  • Share this:
پاکستان میں آئی وی ایف تکنیک ہے ہزاروں کا سہارا، ڈاکٹر رشید کے لئے آسان نہیں تھا اس کا آغاز
پاکستان میں آئی وی ایف تکنیک ہے ہزاروں کا سہارا، ڈاکٹر رشید کے لئے آسان نہیں تھا اس کا آغاز

پاکستان (Pakistan) میں بڑی تعداد میں شادی شدہ جوڑے بانجھ پن کا شکار ہیں اور قدرتی طریقے سے بچہ پیدا نہیں کر پاتے۔ ایسے لوگوں کا سہارا ان ویٹرو فرٹیلائزیشن نام کی تکنیک بنتی ہے، جو انہیں ماں - باپ بننے کا سُکھ فراہم کرتی ہیں۔ آئی وی ایف ٹکنالوجی (IVF Technology) آج بھلے ہی پاکستان میں لوگوں کے درمیان مقبول ہے، لیکن اسے عوام کے درمیان لانے والے ڈاکٹر رشید لطیف (Dr. Rasheed Latif) کے لئے اس کی شروعات کرنا آسان نہیں تھا۔


شروعات میں لوگوں نے اس تکنیک اور ڈاکٹر رشید لطیف کی سخت تنقید کی۔ یہاں تک کہ 10 علمائے کرام نے اسے’حرام‘ اور ’امریکہ کی سازش‘ قرار دیا۔ ڈاکٹر رشید لطیف نے 1984 میں لاہور میں پاکستان کے پہلے آئی وی ایف سینٹر ’لائف‘ کا قیام کیا تھا، جس کی مدد سے آج پاکستان کے ہزاروں لوگ ماں - باپ بن پا رہے ہیں۔ یہ وہ وقت تھا، جب پاکستان اور دنیا کئی ممالک میں ٹکنا لوجی کے تئیں بیداری کی کمی تھی۔


کہیں یہ ’حرام‘ کام تم نے تو نہیں کیا؟


ڈاکٹر رشید لطیف مسلسل محنت کرتے رہے اور آخرکار پہلے ٹسٹ ٹیوب بیبی کے طور پر انہیں 1989 میں کامیابی حاصل ہوئی۔ بچے کی پیدائش کے لئے 6 جولائی 1989 کا دن منتخب کیا گیا تھا۔ اس دن پانچ بچوں کی ڈلیوری کرائی گئی۔ اس وقت کو یاد کرتے ہوئے ڈاکٹر رشید لطیف بتاتے ہیں کہ پہلے ٹسٹ ٹیوب بیبی کی خبر آئندہ دن پاکستان کے اخباروں کے لئے سب سے بڑی خبر تھی۔ ایک نوزائیدہ کے والد ڈاکٹر رشید لطیف کے پاس آئے اور انہیں بتایا کہ ان کے والد نے ان سے پوچھا کہ کہیں یہ ’حرام‘ کام اس نے تو نہیں کیا ہے؟

1980 میں مصر کی یونیورسٹی نے جاری کیا فتویٰ

دنیا میں پہلا ٹسٹ ٹیوب بیبی 1978 میں برطانیہ میں پیدا ہوا تھا۔ اس کے بعد اس تکنیک کو لے کر بحث چھڑ گئی کہ بچے پیدا کرنے کا یہ طریقہ حرام ہے یا حلال؟ اس کے بعد مصر کی اظہر یونیورسٹی نے 1980 میں ایک فتویٰ جاری کیا، جس کے مطابق، آئی وی ایف میں استعمال کئے جانے والے ایگس بیوی اور اسپرم شوہر کے ہوں گے، تبھی بچے کو جائز ٹھہرایا جائے گا۔ اس فتویٰ کے خلاف سال 2015 تک کوئی بڑا تنازعہ نہیں ہوا۔ سال 2015 میں ایک آئی وی ایف سے پیدا ہوئے ایک بچے کی حراست کے لئے ایک جوڑے نے فیڈرل شرعی عدالت سے رجوع کیا۔

سال 2017 میں عدالت نے سنایا فیصلہ

عدالت نے سال 2017 میں اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے قانون اور شریعہ کے مطابق، آئی وی ایف کو تبھی جائز مانا جائے گا، جب اس میں شوہر اور بیوی کے اسپرم اور ایگس استعمال کئے جائیں گے۔ عدالت نے کہا کہ ایران اور لبنان میں ڈونیٹ کئے گئے اسپرم اور ایگس سے پیدا ہونے والے بچوں کو جائز مانا جاتا ہے۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Jul 12, 2021 11:23 AM IST