உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کشمیر میں دبئی کی سرمایہ کاری سے پاکستان کے اڑے ہوش، سابق سفیر بولے! ہم مذاق بن کر رہ گئے

    دبئی جلد ہی کشمیر میں بنیادی ڈھانچے کی تعمیر میں سرمایہ کاری کرنے جا رہا ہے۔ خبر سامنے آنے کے بعد پاکستان میں ہنگامہ برپا ہو گیا۔

    دبئی جلد ہی کشمیر میں بنیادی ڈھانچے کی تعمیر میں سرمایہ کاری کرنے جا رہا ہے۔ خبر سامنے آنے کے بعد پاکستان میں ہنگامہ برپا ہو گیا۔

    دبئی جلد ہی کشمیر میں بنیادی ڈھانچے کی تعمیر میں سرمایہ کاری کرنے جا رہا ہے۔ خبر سامنے آنے کے بعد پاکستان میں ہنگامہ برپا ہو گیا۔

    • Share this:
      نئی دہلی. کشمیر (Kashmir) سے آرٹیکل 370 (Article 370) کے خاتمے کے بعد سے اب تک پاکستان ہر منچ پر بھارت کے خلاف زہر اگل رہا ہے لیکن اسے کہیں بھی کامیابی نہیں ملی۔ اس کے بعد اس نے اسلامی ممالک کی تنظیم ، آرگنائزیشن آف اسلامک کو آپریشن (او آئی سی (OIC) پر کشمیر کو لیکر بھی مدد مانگی۔ لیکن اسے خاموش کرا دیا گیا۔ اب یہ اطلاع ملی ہے کہ پاکستان کے مبینہ مسلم برادر ملک متحدہ عرب امارات (یو اے ای UAE) نے ہندستان کے ساتھ کشمیر کے حوالے سے معاہدہ کیا ہے۔ دبئی  Dubai جلد ہی کشمیر میں بنیادی ڈھانچے کی تعمیر میں سرمایہ کاری کرنے جا رہا ہے۔ خبر سامنے آنے کے بعد پاکستان میں ہنگامہ برپا ہو گیا۔

      اس نئے معاہدے کے تحت دبئی کشمیر میں آئی ٹی ٹاورز ، انڈسٹریل پارکس، لاجسٹک ٹاورز کے ساتھ ساتھ میڈیکل کالجز اور اسپتال تعمیر کرے گا۔ حالانکہ ابھی تک یہ نہیں بتایا گیا کہ دبئی کشمیر میں کتنی سرمایہ کاری کرے گا لیکن دبئی نے ہندستان کے ساتھ اس یہ معاہدہ دستخط بھی کر دئے ہیں۔ مرکزی وزیر تجارت و صنعت پیوش گوئل کے مطابق دنیا کشمیر کی ترقی کے لیے ہمارے ساتھ آ رہی ہے۔ یہ معاہدہ ظاہر کرتا ہے کہ ہندوستان ایک عالمی طاقت کے طور پر ابھر کر سامنے آرہا ہے۔

      پاکستان بن گیا مذاق: باسط
      ہندستان میں پاکستان کے سابق سفیر عبدالباسط نے کہا کہ پاکستان میں تسلسل نہ ہونے کی وجہ سے ہم دوسرے ممالک کے لیے مذاق بن کر رہ گئے ہیں۔ وہ اس فیصلے پر برہم ہوئے اور کہا کہ یہ پاکستان کی سفارتی شکست ہے۔ پہلے ہی او آئی سی (OIC) نے مسئلہ کشمیر پر پاکستان کی کھل کر حمایت نہیں کی ہے۔

      دیگر اسلامی ممالک بھی کریں گے سرمایہ کاری
      انہوں نے کہا کہ پاکستان اندھیرے میں ہاتھ پاؤں مار رہا ہے اور اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا۔ پاکستان کی اس حالت  کیلئے پرانی حکومتیں بھی ذمہ دار ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ کشمیر کے مسئلے (kashmir issue) کا کوئی حل نہیں کیا جا سکتا ہے  لیکن مرضی کی کمی ہے۔ وہ دن دور نہیں جب دبئی کے بعد ایران اور دیگر مسلم ممالک بھی کشمیر میں سرمایہ کاری کریں گے۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: