اپنا ضلع منتخب کریں۔

    ایس جے شنکر نے جرمن ہم منصب کے ساتھ اٹھایا اریحہ شاہ کا معاملہ، آخر کون ہیں اریحہ شاہ؟

    بیرباک نے کہا کہ جرمن حکام ہر بچے کی ثقافتی شناخت کو بھی ذہن میں رکھتے ہیں

    بیرباک نے کہا کہ جرمن حکام ہر بچے کی ثقافتی شناخت کو بھی ذہن میں رکھتے ہیں

    وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے مزید کہا کہ میرے خیال میں یہ بہت نازک معاملہ ہے، اس میں رازداری کے مسائل شامل ہیں۔ تو میں سمجھتا ہوں کہ دونوں حکومتیں اسے ذہن میں رکھ کر ہینڈل کر رہی ہیں۔ لہذا مجھے لگتا ہے کہ یہ اتنا ہی اہم ہے جتنا میں عوامی طور پر کہہ سکتا ہوں۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Germany
    • Share this:
      وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے اپنے جرمن ہم منصب اینالینا بیرباک (Annalena Baerbock) کو ایک ہندوستانی بچی کے بارے میں تشویش سے آگاہ کیا جو برلن میں رضاعی نگہداشت میں رہ رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ بچی کو اس کے لسانی، مذہبی، ثقافتی اور سماجی ماحول میں ہونا چاہیے۔ جرمن حکام نے ایک سال قبل اریحہ شاہ (Ariha Shah) کو والدین کی جانب سے ہراساں کرنے کا الزام لگا کر تحویل میں لیا تھا۔ ڈیڑھ سال سے زیادہ عمر کے بچی اریحہ شاہ کے اہل خانہ اس کی ہندوستان واپسی کی کوشش کر رہے ہیں۔

      جے شنکر نے بیرباک کے ساتھ اپنی وسیع گفتگو میں بچی کا مسئلہ اٹھایا۔ بیرباک کے ساتھ مشترکہ میڈیا بریفنگ میں انھوں نے کہا کہ ہمیں تشویش ہے کہ بچی اپنے لسانی، مذہبی، ثقافتی اور سماجی ماحول میں ہونا چاہیے۔ یہ اس کا حق ہے۔ اور ہمارا سفارت خانہ جرمن حکام کے ساتھ اس معاملے کی پیروی کر رہا ہے، لیکن یہ ایک ایسا موضوع بھی ہے جسے میں نے وزیر کے ساتھ اٹھایاہے۔

      وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے مزید کہا کہ میرے خیال میں یہ بہت نازک معاملہ ہے، اس میں رازداری کے مسائل شامل ہیں۔ تو میں سمجھتا ہوں کہ دونوں حکومتیں اسے ذہن میں رکھ کر ہینڈل کر رہی ہیں۔ لہذا مجھے لگتا ہے کہ یہ اتنا ہی اہم ہے جتنا میں عوامی طور پر کہہ سکتا ہوں۔ بیرباک سے جب اس معاملے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ اریحہ کی خیریت ان کے لیے بہت اہم ہے۔ انھوں نے کہا کہ دو بیٹیوں کی ماں کے طور پر میں یہ کہنا چاہوں گی کہ میرے لیے اریحہ شاہ کی صحت بہت اہم ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:

      اس لیے مجھے اس کیس کے بارے میں تفصیلی معلومات ملی ہیں، میں آپ کو یقین دلا سکتی ہوں کہ وہ ٹھیک ہے اور ہندوستان اور جرمنی میں ہر ایک کے لیے خاص طور پر بچی کی تندرستی کے لیے مناسب کوشش جاری ہے اور اسے اولین ترجیح دی گئی ہے۔

      بیرباک نے کہا کہ جرمن حکام ہر بچے کی ثقافتی شناخت کو بھی ذہن میں رکھتے ہیں جس کی دیکھ بھال جرمنی میں یوتھ آفس کرتی ہے۔ بچوں کو صرف یوتھ آفس کی طرف سے حراست میں لیا جاتا ہے، اگر ان کی صحت کے بارے میں سنگین خدشات ہوں؛ مثال کے طور پر پرتشدد جنسی زیادتی یا شدید نظرانداز کیا جائے تو اس پر کاروائی ہوسکتی ہے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: