ہوم » نیوز » عالمی منظر

نیوزی لینڈ میں زلزلے کے بعد سونامی، ہزاروں لوگوں نے گھربار چھوڑا ، ایک کی موت

نیوزی لینڈ میں آج 7.8 کی شدت کے زلزلے کے زبردست جھٹکے محسوس کئے گئے اور اس کے بعد سونامی کی لہریں اٹھنے لگیں، جس کی وجہ سے ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے اپنے گھربار چھوڑ کر محفوظ مقام کی طرف جانا شروع کردیا ہے

  • UNI
  • Last Updated: Nov 14, 2016 01:56 AM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
نیوزی لینڈ میں زلزلے کے بعد سونامی، ہزاروں لوگوں نے گھربار چھوڑا ، ایک کی موت
نیوزی لینڈ میں آج 7.8 کی شدت کے زلزلے کے زبردست جھٹکے محسوس کئے گئے اور اس کے بعد سونامی کی لہریں اٹھنے لگیں، جس کی وجہ سے ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے اپنے گھربار چھوڑ کر محفوظ مقام کی طرف جانا شروع کردیا ہے

ویلنگٹن : نیوزی لینڈ میں آج 7.8 کی شدت کے زلزلے کے زبردست جھٹکے محسوس کئے گئے اور اس کے بعد سونامی کی لہریں اٹھنے لگیں، جس کی وجہ سے ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے اپنے گھربار چھوڑ کر محفوظ مقام کی طرف جانا شروع کردیا ہے ۔ زبردست زلزلہ سے ایک شخص کی موت ہو گئی۔  نیوزی لینڈ پولیس کی جانب سے جاری ایک بیان میں یہ اطلاع دی گئی۔ بیان کے مطابق کائی کورا میں زلزلے سے تباہ ہوئی ایک عمارت میں ایک شخص کے مرنے کی رپورٹ ہے۔

منسٹری آف سول ڈیفنس کی قومی کنٹرولر سارا اسٹیورٹ۔بلیک نے کہا کہ سونامی کی لہریں اٹھنے لگی ہیں لیکن ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ اس کے اثرات کے بارے میں کچھ بھی کہنا جلد بازی ہوگی۔ انہوں نے کہا، '' ہماری تشویش یہ ہے کہ سونامی کے ساتھ کیا آ رہا ہے۔ بعد میں آنے والی لہروں کا اثر وسیع بھی ہو سکتا ہے۔ "

امریکی محکمہ موسمیات کے مطابق ہندستانی وقت کے مطابق چار بج کر 32 منٹ پر آنے والے زلزلے کا مرکز کرائسٹ چرچ سے 91 کلومیٹر دور شمال مشرق میں تھا۔ کچھ علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے بہت زبردست تھے جس کی وجہ سے لوگوں کو دارالحکومت ویلنگٹن کی طرف بھیج دیا گیا۔

سینٹ جان انسیڈینٹ کنٹرولر ڈیون روساریو نے بتایا کہ کلورڈین اور کائی کورا سمیت زلزلے والے مرکز کے نزدیک سے طبی اور بچاؤ عملہ کو لانے کے لئے ہیلی کاپٹر بھیجے جا رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ہم نے زلزلے والے علاقوں سے زخمیوں کی رپورٹیں لینی شروع کر دی ہیں۔

خیال ر ہے کہ اس سے پہلے نیوزی لینڈ میں فروری 2011 کو آئے 6.3 کی شدت والے زلزلے سے 185 افراد ہلاک ہوئے تھے اور املاک کا زبردست نقصان ہوا تھا۔

First published: Nov 14, 2016 01:56 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading