سینکڑوں عازمین کی اموات کے باوجود سعودی حکومت کے حج انتظامات کے معترف ہیں حاجی

پٹنہ۔ گزشتہ چوبیس ستمبر کو سعودی عرب کے منیٰ میں رمی جمرات کے دوران مچی بھگدڑ میں تقریبا 769 عازمین حج کی موت ہو گئی، جن میں پینتالیس کا تعلق ہندستان سے ہے۔

Sep 28, 2015 05:34 PM IST | Updated on: Sep 28, 2015 05:37 PM IST
سینکڑوں عازمین کی اموات کے باوجود سعودی حکومت کے حج انتظامات کے معترف ہیں حاجی

پٹنہ۔ گزشتہ چوبیس ستمبر کو سعودی عرب کے منیٰ میں رمی جمرات کے دوران مچی بھگدڑ میں تقریبا 769 عازمین حج کی موت ہو گئی، جن میں پینتالیس کا تعلق ہندستان سے ہے۔

بہار کے دارالحکومت پٹنہ سے حج کے لئے گئے اس حادثہ کے عینی شاہد محمد ایوب بیان کر رہے ہیں اس المناک واقعہ کا آنکھوں دیکھا حال ۔

Loading...

کب ہوا حادثہ؟

شیطان کو پتھر مارنے کی رسم کو پورا کرتے وقت مچی بھگدڑمیں یہ حادثہ ہوا۔ اس رسم کو پورا کرنے کے لئے بنائی گئی سیڑھیوں پر ایک وقت میں تقریبا 20 سے 30 ہزار عازمین کا جتھا جاتا ہے۔ جب ہم لوگ وہاں اپنی باری کا انتظار کر رہے تھے، تب اچانک چاروں طرف شور مچنے لگا۔ لوگ ادھر سے ادھر بھاگ رہے تھے اور چاروں طرف افراتفری کا ماحول تھا۔

کیا تھا حادثے کا سبب؟

رمی جمرات کے لئے سیڑھی پر چڑھے ہوئے لوگوں نے وہاں پرسخت گرمی کی وجہ سے تھوڑی جلدبازی دکھاتے ہوئے دھكامکی شروع کر دی۔ اسی دوران وہاں بھگدڑ مچ گئی۔ بھگدڑ کی زد میں خاص طور پر عمردراز عازمین آ گئے کیونکہ سیڑھیوں پر اس وقت موجود لوگوں کی تعداد تقریبا 30 ہزار تھی اور اتنی بھیڑ کی وجہ سے لوگ اپنے کو سنبھال نہیں سکے۔

حادثے کا بعد کا منظر

ہم نے دیکھا کہ کچھ ہی دیر میں ہمارے ارد گرد لاشوں کا انبارلگ گیا۔ جہاں کچھ دیر پہلے سب جگہ خوشی کا ماحول تھا، وہاں اب غم کی لہر دوڑ رہی تھی۔ ہر کوئی اپنے ساتھی کو ڈھونڈنے میں مصروف ہو گیا۔ اس منظر کو لفظوں میں بیان کرنا بھی بہت تکلیف دہ ہے۔ اس حادثے میں 700 سے زیادہ لوگوں کی موت ہو گئی اور 1000 سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔ خدا کا شکر ہے کہ میں اور میرے تمام ساتھی محفوظ ہیں۔

حادثے کے بعد

حادثے کے بعد سعودی حکومت نے وہاں کے حالات کو قابو میں کرنے کی کوشش کی اور وہ اس میں کافی حد تک کامیاب بھی رہی۔ ہم سعودی حکومت کے شکر گزار ہیں کہ ایسے حالات میں بھی ہم لوگوں کو اپنے ملک سے دور ہونے کا احساس نہیں ہوا۔ اتنے بڑے حادثے کے بعد نظم ونسق تھوڑا تو بگڑ ہی جاتا ہے، لیکن یہاں کی حکومت نے اسے کم از کم خراب ہونے نہیں دیا ۔ یہاں آنے والے ہر عازم حج  کے لئے کھانے اور ٹھہرنے کے بہترین انتظامات کیے گئے ہیں۔ سڑکوں کے کنارے کھانے کے خیموں کے ساتھ ساتھ عارضی گھر بھی بنے ہوئے ہیں۔ سعودی حکومت نے شہید ہونے والوں اور زخمیوں کے لئے معاوضے کا اعلان بھی کیا ہے۔

کیوں ہو رہے ہیں مسلسل حادثے؟

میں پہلی بار حج کے لئے آیا ہوں، لیکن میں یہاں پر کئے گئے زبردست انتظامات کا معترف ہوں۔ سعودی حکومت نے بہت کوشش کی ہے کہ تمام عازمین حج کو جتنی زیادہ ہو سکے سہولیات فراہم کرائی جائیں اور اس میں وہ کافی حد تک کامیاب بھی رہی ہے۔ یہاں حاجیوں کے کھانے کے لئے کھانے کا ںظم اور ساتھ ہی یہاں کی حکومت کے نمائندوں کے ساتھ رابطہ قائم کرنے کے لئے جگہ جگہ پر ان کے موبائل نمبر کے اشتہار چپکے ہوئے ہیں۔

میں اپنی طرف سے صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ جو بھی شخص اگلے 3-4 سال میں حج کرنے کی سوچ رہا ہے اسے اگلے ہی سال یہاں آنا چاہئے۔ عرفات میں جو سکون ہے وہ دنیا کے کسی بھی کونے میں اور کسی بھی چیز سے حاصل نہیں ہو سکتا۔ اپنی بات کو ختم کرتے ہوئے میں صرف یہی کہنا چاہوں گا کہ جو لوگ یہاں ہونے والے حادثات کی وجہ سے یہاں آنا پسند نہیں کرتے ہیں، ان کے لئے کسی شاعر کی یہ چند سطریں بالکل مناسب رہیں گی کہ جسے موت نے بھی نہ مارا، اسے زندگی نے مارا۔

نیوز 18 کے گوری شنکر سے خصوصی بات چیت پر مبنی

 

 

Loading...