உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    چینی کمپنی Xiaomi کو جھٹکا، ED نے ضبط کی 5 ہزار کروڑ سے زیادہ کی جائیداد

    چینی کمپنی Xiaomi کو جھٹکا، ED نے ضبط کی 5 ہزار کروڑ سے زیادہ کی جائیداد

    چینی کمپنی Xiaomi کو جھٹکا، ED نے ضبط کی 5 ہزار کروڑ سے زیادہ کی جائیداد

    انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے شاومی ٹکنالوجی انڈیا پرائیویٹ لمیٹیڈ (Xiaomi India) کے 5551.27 کروڑ روپئے ضبط کرلئے ہیں۔ ای ڈی نے کمپنی کے خلاف یہ کارروائی فارن ایکسچینج مینجمنٹ ایکٹ، 1999 کے التزامات کے تحت کی ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی: اسمارٹ فون بنانے والی چینی کمپنی شاومی (Xiaomi) پر انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (Enforcement Directorate) کا شکنجہ کستا جا رہا ہے۔ ای ڈی نے فیما کے تحت شاومی ٹکنالوجی انڈیا پرائیویٹ لمیٹیڈ (Xiaomi India) کے 5,551 کروڑ روپئے ضبط کئے ہیں۔ شاومی انڈیا چین واقع شاومی گروپ کی مکمل مالکانہ حق والی معاون کمپنی ہے۔

      اس بارے میں جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے کمپنی کے ذریعہ کی گئی یہ کارروائی فراڈ میں فارن ایکسچینج مینجمنٹ ایکٹ 1999 کے تحت کی گئی ہے۔ ضبط کی گئی رقم کمپنی کے بینک اکاونٹ میں پڑی تھی۔ ای ڈی نے اس سال فروری مہینے میں کمپنی کی طرف سے غیر قانونی ترسیلات کے معاملے میں جانچ شروع کی تھی۔ قبل ازیں ای ڈی نے Xiaomi کے عالمی نائب صدر منو کمار جین کو طلب کیا تھا۔

      یہ بھی پڑھیں۔

      IPL 2022: پلے آف میں پہنچنے کی امیدیں ختم، کیا اب ارجن تندولکر کو ممبئی انڈینس دے گی ڈیبیو کا موقع؟

      کمپنی نے سال 2014 میں ہندوستان میں کام شروع کیا

      انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی مانیں تو کمپنی نے سال 2014 میں ہندوستان میں کام شروع کیا اور سال 2015 سے پیسہ بھیجنا شروع کردیا۔ کمپنی نے تین غیر ملکی اداروں کو 5551.27 کروڑ روپئے کے برابر غیر ملکی کرنسی انویسٹ کی، جس میں رائلٹی کی آڑ میں ایک شاومی گروپ یونٹ شامل ہے۔ رائلٹی کے نام پر اتنی بڑی رقم کمپنی کے چینی گروپ کے اداروں کے احکامات پر بھیجی گئی تھی۔ دیگر دو یو ایس  کی بنیاد پر غیر متعلقہ اداروں کو کروڑوں روپئے کی رقم بھی شاومی گروپ کی اداروں کے آخری فائدہ کے لئے تھی۔

      فیما کے تحت کارروائی

      شاومی انڈیا، MI نے برانڈ نام کے تحت ہندوستان میں موبائل فون صارف کا ایک بڑا حصہ قبضہ رہا ہے۔ شاومی انڈیا پوری طرح سے چین میں تیار کی گئی موبائل سیٹ اور اس کے دیگر پروڈکٹ ہندوستان میں مینوفیکچررز سے خریدتا ہے۔ شاومی انڈیا نے ان تین غیرملکی اداروں سے کوئی خدمت نہیں لی ہے، جنہیں اس طرح کی رقم منتقل کی گئی ہے۔ کمپنی نے رائلٹی کی آڑ میں قانونی طریقے سے یہاں سے کمائی گئی رقم نہ صرف ملک سے باہر بھیجی، باقی فیما کی خلاف ورزی کرتے ہوئے یہاں کروڑوں روپئے کی انسویسمنٹ بھی کی۔ حیرانی کی بات ہے کہ کمپنی نے غیر ملکوں میں پیسہ بھیجتے وقت بینکوں کو غلط جانکاری بھی دی۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: