اپنا ضلع منتخب کریں۔

    غائب ہوا آفیشل لیبل، مسک نے کیا آگاہ،کہا-ٹوئٹر کرتا رہے گا احمقانہ چیزیں

    غائب ہوا آفیشل لیبل، مسک نے کیا آگاہ،کہا-ٹوئٹر کرتا رہے گا بے وقوفی بھری چیزیں

    غائب ہوا آفیشل لیبل، مسک نے کیا آگاہ،کہا-ٹوئٹر کرتا رہے گا بے وقوفی بھری چیزیں

    ٹوئٹر ڈیل کو پورا کرنے کے بعد سے دنیا کے سب سے امیر شخص مسک نے مائیکروبلاگنگ سائٹ ٹوئٹر کے کام کاج کو متاثر کرنے والے فیصلوں کی جھڑی لگادی ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Newyork
    • Share this:
      ٹوئٹر کے نئے مالک ایلون مسک بدھ کی رات نئے تجربات کرتے نظر آئے۔ پہلے انہوں نے ٹوئٹر پر نیا ’آفیشل‘ لیبل لانچ کیا اور کچھ دیر بعد ہی اسے ہٹادیا۔ بدھ کی رات وزیراعظم نریندر مودی اور دوسرے کئی وزرا کی ٹوئٹر پروفائل پر آفیشل لیبل دکھائی دیا۔ اس طرح کمپنی نے ٹوئٹر بلو ٹک والے اکاونٹ اور آفیشیل اکاونٹس کے درمیان ایک فرق پیدا کیا۔ وہیں، کچھ دیر بعد ہی یہ آفیشل لیبل غائب ہوگیا۔ لوگ اس سے حیرت میں پڑ گئے۔ اس کے بعد ایلون مسک نے ایک ٹوئٹ سے ساری وضاحت کردی۔


      ٹیسلا کے سی ای او اور ’ٹوئٹر شکایت ہاٹ لائن آپریٹر‘ ایلون مسک نے بدھ کو اعلان کیا کہ سوشل میڈیا کمپنی ٹوئٹر آنے والے مہینوں میں آزمائشی اور غلطی کی بنیاد پر کئی ایسے کام کرے گا جنہیں جان کر لوگ حیران رہ جائیں گے۔ مسک نے ٹویٹ کیا، "براہ کرم نوٹ کریں کہ ٹویٹر آنے والے مہینوں میں بہت سارے احمقانہ کام کرے گا۔ یہ بہت سارے تجربات کرے گا۔ جو کام کرتا ہے اسے ہم رکھیں گے اور جو نہیں اسے تبدیل کریں گے۔" مسک نے کہا، "شکایت ہاٹ لائن آپریٹر آن لائن ہے! براہ کرم ذیل میں اپنی شکایات کا ذکر کریں۔"

      یہ بھی پڑھیں:
      فیس بک کی پیرنٹ کمپنی میٹا نے 11000 لوگوں کو نوکری سے نکالا، زکربرگ نے مانگی معافی

      یہ بھی پڑھیں:
      یونان میں عام ہڑتال سے ملک بھر میں پبلک ٹرانسپورٹ متاثر، آخر کیا ہے اس کی وجہ؟

      ٹوئٹر ڈیل کو پورا کرنے کے بعد سے دنیا کے سب سے امیر شخص مسک نے مائیکروبلاگنگ سائٹ ٹوئٹر کے کام کاج کو متاثر کرنے والے فیصلوں کی جھڑی لگادی ہے۔ ٹوئٹر کے لاکھوں روزانہ ایکٹیو یوزرس ہیں۔ کئی ہندوستانی سرکاری تنظیموں کے ٹوئٹر ہینڈل پر آفیشل لیبل دیکھا گیا۔ مثال کے طور پر وزیراعظم کے دفتر، وزیراعظم نریندر مودی کا آفیشل ٹوئٹر اکاونٹ اور وزیردفاع راج ناتھ سنگھ کے ٹوئٹر اکاونٹ پر بھی آفیشیل لیبل دیکھا گیا۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: