உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ایلون مسک: ٹوئٹر میں غیر ملکی اداروں کا حصص؛ امریکی حکومت ڈیٹا کو لیکر فکرمند، تحقیقات کا کیا مطالبہ۔

    ایلون مسک کو امریکی حکومت کی جانب سے جانچ پڑتال ہوگی۔

    ایلون مسک کو امریکی حکومت کی جانب سے جانچ پڑتال ہوگی۔

    مائیکرو بلاگنگ پلیٹ فارم میں غیر ملکی اداروں کا حصص ہونے پر امریکی حکومت صارف کے ڈیٹا کی رازداری کے بارے میں فکر مند ہے۔ ان سرمایہ کاروں میں سعودی عرب کے شہزادہ الولید بن طلال السعود اور قطر انویسٹمنٹ اتھارٹی بھی شامل ہیں۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • America
    • Share this:
      امریکی حکومت اب اس بات پر غور کر رہی ہے کہ کیا ایلون مسک کے غیر ملکی سرمایہ کاری کے شراکت داروں کو مائیکرو بلاگنگ پلیٹ فارم پر صارفین کے نجی ڈیٹا تک رسائی حاصل ہے یا نہیں کیونکہ وہ مزید برطرفی کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔

      بلومبرگ نے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا کہ حکومت کمپنی میں حصص رکھنے والے عالمی سرمایہ کاروں کے ساتھ مسک کے نجی معاہدوں کے بارے میں مزید تفصیلات طلب کر رہی ہے۔

      ان سرمایہ کاروں میں سعودی عرب کے شہزادہ الولید بن طلال السعود اور قطر انویسٹمنٹ اتھارٹی شامل ہیں۔

      مسک کے یوکرین اور چین میں کاروباری معاملات نے پہلے ہی حکومتی صفوں میں تشویش پیدا کر دی ہیں۔

      حکومت اس بات پر غور کر رہی ہے کہ کیا مسک کے غیر ملکی سرمایہ کاروں کو پلیٹ فارم پر صارفین کے نجی ڈیٹا تک رسائی حاصل ہیں۔

      یہ بھی پڑھیں:کیا ٹویٹر بندہوجانے والا ہے؟ RIP Twitter پر ایلون مسک نے کیا اس طرح رد عمل! پوسٹ ہوئی وائرل


       ایلون مسک کے الٹی میٹم کے باوجود برطرف کیے گئے ملازمین نے کی یہ حرکت، جانیے تفصیلات


      امریکی صدر جو بائیڈن نے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مسک کے دوسرے ممالک کے ساتھ تعلقات دیکھنے کے لائق ہیں۔

      سینیٹر کرس مرفی (ڈیموکریٹ کنیکٹی کٹ) نے بھی امریکہ میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی کمیٹی (CFIUS) سے ٹویٹر میں سعودی عرب کے حصص کا جائزہ لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

      فیڈرل ٹریڈ کمیشن (ایف ٹی سی) کی چیئرپرسن لینا خان کو لکھے گئے خط میں امریکی سینیٹرز نے ایجنسی سے کہا ہے کہ وہ اس بات کی تحقیقات کرئے کہ کیا مسک کی ملکیت والے ٹوئٹر نے صارفین کے تحفظ کے قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔

      خط میں لکھا گیا ہم ٹویٹر کے سنجیدہ، جان بوجھ کر حفاظت کی لاپروائی کرنے اور صارفین کی سکیورٹی کے بارے میں یہ خط لکھتے ہیں اور ایف ٹی سی کی حوصلہ افزائی کرتے ہے کہ وہ ٹوئٹر کی کسی بھی خلاف ورزی یا صارفین کے تحفظ کے قوانین اور دیگر خلاف ورزیوں کی تحقیقات کرئے۔

      خط میں مزید کہا گیا کہ ٹویٹر کے نئے سی ای او ایلون مسک نے حالیہ ہفتوں میں خطرناک اقدامات اٹھائے ہیں جن سے پلیٹ فارم کی سالمیت اور حفاظت کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور واضح انتباہات کے باوجود انہوں نے نئی خصوصیات کا اعلان کیا ہے۔ ان تبدیلیوں کو دھوکہ دہی، گھوٹالوں اور خطرناک نقالی کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہیں۔

      میڈیا رپورٹس کے مطابق زیادہ منافع کمانے اور اخراجات میں کمی کو ترجیح دیتے ہوئے، ٹویٹر کے ایگزیکٹوز نے اہم عملے کو برخاست کر دیا ہے اور اندرونی پرائیویسی کے جائزوں کو کم کر دیا اور انجینئرز کو نئی تبدیلیوں کے لیے قانونی ذمہ داری اٹھانے پر مجبور کر دیا ہیں۔

      حفاظت اور قانونی تعمیل کی نگرانی کرنے والے مینیجرز اور عملے کو پروڈکٹ اپ ڈیٹس کا جائزہ لینے سے روکا گیا ہیں۔

      سینیٹرز نے ایف ٹی سی کو بتایا کہ پلیٹ فارم کی پرائیویسی، سائبرسیکیوریٹی اور سالمیت کے ذمہ دار ٹوئٹر کے کلیدی ایگزیکٹوز نے استعفیٰ دے دیا ہیں، آب سال یہ ہے کہ کیا ٹوئٹر کا ذاتی ڈیٹا کو مناسب طور پر، غلط استعمال یا خلاف ورزی سے محفوظ رکھا گیا ہے، جب کہ کمپنی نئی مصنوعات اور منیٹائزیشن کی حکمت عملیوں کو تلاش کرتی ہیں۔

      یہ بھی پڑھیں: ایلن مسک نے ٹویٹر پر کرائی ڈونالڈ ٹرمپ کی واپسی، سابق صدر بولے: اب میرا موڈ...

      مسک نے پہلے 3,000 سے زیادہ ملازمین کو اور 4,800 سے زیادہ کنٹریکٹ ورکرز کو برطرف کیا۔ مسک کے انتہائی سخت کام کرنے کے طریقے پر پچھلے ہفتے 1,200 سے زیادہ ملازمین نے استعفیٰ دے دیا۔

      رپورٹس کے مطابق مسک ٹوئٹر کے مزید ملازمین کو نکالنے پرغور کر رہا ہے۔ اس بار سیلز اور پارٹنرشپ عمودی کو نشانہ بنایا جائے گا۔
      Published by:Faheem Mir
      First published: