உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Ukraine Crisis: ہندوستانی شہریوں اور طلباء کو یوکرین چھوڑنے کا مشورہ، سفارت خانے نے ایڈوائزری جاری کی

    ہندوستانی شہریوں اور طلباء کو یوکرین چھوڑنے کا مشورہ

    ہندوستانی شہریوں اور طلباء کو یوکرین چھوڑنے کا مشورہ

    Ukraine Crisis: سفارت خانہ کی طرف سے جاری ایڈوائزری میں کہا گیا ہے، یوکرین میں موجودہ صورتحال کی غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر، یوکرین میں مقیم ہندوستانی شہری، خاص طور پر ایسے طلباء جن کا رکنا ضروری نہیں ہے، وہ عارضی طور پر وہاں سے نکلنے پر غور کر سکتے ہیں۔‘ ہندوستانی شہریوں کو یوکرین اور یوکرین کے اندر غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کا مشورہ بھی دیا جاتا ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی: کیو واقع ہندوستانی سفارت خانہ نے ہندوستانی شہریوں کو یوکرین چھوڑنے کا مشورہ دیا ہے۔ منگل کے روز سفارت خانہ نے اس سے متعلق ایڈوائزری جاری کردی ہے۔ اس میں ہندوستانی شہریوں اور خاص طور پر طلبا کو غیر مستقل طور پر یوکرین چھوڑنے کے لئے کہا گیا ہے۔ خاص بات ہے کہ اس سے پہلے بھی امریکہ سمیت کئی ملک یوکرین سے اپنے سفارت کاروں کو ملک چھوڑنے کے لئے کہہ چکے ہیں۔

      سفارت خانہ کی طرف سے جاری کردہ ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ ’یوکرین میں موجودہ صورتحال کی غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر، یوکرین میں مقیم ہندوستانی شہری، خاص طور پر ایسے طلباء جن کا رکنا ضروری نہیں ہے، وہ عارضی طور پر وہاں سے نکلنے پر غور کرسکتے ہیں۔‘ ہندوستانی شہریوں کو یوکرین اور یوکرین کے اندر غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کا مشورہ بھی دیا جاتا ہے۔

      ایڈوائزری میں مزید کہا گیا ہے، ’ہندوستانی شہریوں سے گزارش کی جاتی ہے کہ وہ یوکرین میں اپنی موجودگی کے بارے میں سفارت خانہ کو آگاہ کرائیں، تاکہ ضرورت پڑنے پر ان تک پہنچا جاسکے۔ یوکرین میں ہندوستانیوں کو خدمات۰ دینے کے لئے عام طور پر کام کرے گا۔

      آسٹریلیا نے بھی سفارت کاروں کو احکامات جاری کر دیئے
      ماسکو اور کیو کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث آسٹریلیا بھی یوکرین میں اپنا سفارت خانہ خالی کر رہا ہے۔ آسٹریلیا کے وزیر خارجہ مارس پین نے اتوار کے روز اعلان کیا تھا کہ کیو میں پورے اسٹاف کو جگہ چھوڑنے کے لئے کہا گیا ہے۔ پین نے بتایا تھا کہ سفارت خانہ میں کام  کو بند کر دیا گیا ہے اور اسے مغربی یوکرین واقع سیو کے عارضی دفتر میں بھیجا گیا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے آسٹریلیا کے شہریوں کو بھی یوکرین چھوڑنے کا مشورہ دیا ہے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: