ہوم » نیوز » عالمی منظر

ترکی میں ناکام بغاوت کے بعد تین ماہ کے لیے ایمرجنسی کا اعلان

مسٹر اردوگان نے کہا ہے کہ ہنگامی حالت کے نفاذ کی ضرورت اس لیے پیش آئی ہے تاکہ بغاوت کی کوشش میں ملوث تمام ذمہ داروں کو پکڑا جاسکے

  • UNI
  • Last Updated: Jul 21, 2016 10:30 AM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
ترکی میں ناکام بغاوت کے بعد  تین ماہ کے لیے ایمرجنسی کا اعلان
file photo

استنبول : ترکی کے صدر رجب طیب ارودگان نے گذشتہ ہفتے ملک میں ناکام فوجی بغاوت کے بعد، سیکورٹی فورسیز، عدلیہ ، سول سروسز اور اکیڈمک شعبہ سے وابستہ ہزاروں مشتبہ افراد کے خلاف کارروائی کو آگے بڑھانے کے لئے ملک میں تین ماہ کی ہنگامی حالت کا اعلان کیا ہے۔مسٹر اردوگان نے کہا ہے کہ ہنگامی حالت کے نفاذ کی ضرورت اس لیے پیش آئی ہے تاکہ بغاوت کی کوشش میں ملوث تمام ذمہ داروں کو پکڑا جاسکے۔


ایمرجنسی کے دوران ان کی حکومت بغاوت کی کوشش میں ملوث لوگوں کے خلاف تیز رفتار اور موثر طریقے سے آئین کے تحت کارروائی کرنے کی اجازت دے گی۔انھوں نے یہ بات اپنی کابینہ کے پانچ گھنٹے تک چلنے والی اجلاس کے بعد کہی۔ترک رہنما نے کہا ہے کہ ایمرجنسی کے نفاذ کا مطلب یہ نہیں کہ بنیادی آزادی کو صلب کیا جائے ۔بلکہ اس کے برعکس ترکی کی جمہوریت کے خلاف خطرات سے نمٹا جاسکے گا۔انہوں نے کہاکہ ’’کمانڈر اِن چیف کی حیثیت سے، میری توجہ اس طرف رہے گی تاکہ مسلح افواج کے اندر تمام وائرس کا صفایا کیا جاسکے۔


انھوں نے کہا کہ’ ہنگامی حالت کے نفاذ کا مقصد اس خطرے کو جلد از جلد ختم کرنا ہے۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ اس سے جمہوریت، قانون کی سربلندی اور آزادی کی اقدار مضبوط ہوں گی۔‘صدر نے کہا کہ جن لوگوں کی جانیں ناکام بغاوت میں ضائع ہوئیں، ملک ان کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرے گا۔ترک صدر نے کہا کہ دوسرے ملکوں کو ترکی کے معاملات سے پرے رہنا چاہیے۔ ’اس ملک کو اپنی تقدیر کا فیصلہ خود کرنے کا حق حاصل ہے۔‘


خیال رہے کہ گزشتہ جمعے کی رات ترک فوج کے ایک دھڑے کی طرف سے مسلح بغاوت کرتے ہوئے حکومت کا تختہ الٹنے کی جو کوشش کی گئی تھی، اس کے بعد سے پورے ملک میں مختلف شعبوں کے اب تک گرفتار یا برطرف کیے گئے سرکاری اور نجی ملازمین کی تعداد 50 ہزار ہو چکی ہے۔ان پچاس ہزار افراد میں سکیورٹی کے شعبے میں فرائض انجام دینے والے ہزاروں فوجی اور پولیس اہلکار بھی شامل ہیں جبکہ باقی کا تعلق ملکی عدلیہ اور تعلیم کے سرکاری اور نجی شعبوں سے ہے۔

ترک حکام نے گذشتہ ہفتے حکومت کے خلاف بغاوت کی ناکام کوشش کے الزام میں گرفتار کیے گئے 99 جرنیلوں کے خلاف باقاعدہ فردِ جرم عائد کر دی ہے۔جرنیلوں پر فردِ جرم کا فیصلہ صدر رجب طیب اردوغان کے ان فوجی کمانڈروں کے ساتھ ملاقات کے بعد کیا گیا جو بغاوت کے دوران ان کے وفادار رہے تھے۔ان افراد پر امریکہ میں جلاوطنی کی زندگی بسر کرنے والے مبلغ فتح اللہ گولن کے نظریات کا حامی ہونے کا الزام لگایا ہے۔

ترک حکومت نے فتح اللہ گولن پر الزام لگایا کہ بغاوت کی کوشش ان کے ایما پر ہوئی تاہم وہ اس الزام سے انکار کرتے ہیں۔ناکام فوجی بغاوت کی کوشش کے دوران ترکی میں 300 سے زائد افراد مارے گئے اور پورے ملک میں بے تحاشا مادی نقصان بھی ہوا۔ سب سے زیادہ نقصان دارالحکومت انقرہ میں ہوا، جہاں جنگی طیارے پروازیں کرتے رہے اور ہیلی کاپٹروں سے ملکی پارلیمان اور پولیس ہیڈکوارٹرز کی عمارات کو نشانہ بنایا گیا۔ترکی میں بغاوت کو ناکام بنانے میں عوام نے اہم کردار ادا کیا۔

ان وسیع تر گرفتاریوں پر عالمی سطح پرگہری تشویش بھی پائی جاتی ہے۔جرمن وزیرِ خارجہ فرینک والٹر شٹائن مائر نے ترکی میں ہنگامی حالت کے نفاذ کے اعلان پر ردِعمل میں کہا ہے کہ ایمرجنسی صرف آخری اقدام کے طور پر لگانی چاہیے تھی اور اسے صرف اتنی مدت تک نافذ رہنا چاہیے جب تک اس کی ضرورت ہے۔انھوں نے ترک حکومت پر زور دیا کہ اسے مجرموں کو نشانہ بنانا چاہیے، نہ کہ سیاسی حریفوں کو۔

جرمن چانسلر انگیلا میرکل کے ایک ترجمان نے کہا، ’’(ہزاروں گرفتاریوں کی صورت میں) ہم ہر روز ایسے نئے اقدامات دیکھ رہے ہیں، جن سے قانون کی بالادستی کے جمہوری ضابطے کی نفی ہوتی ہے اور جو اپنے حجم میں قطعی غیر متناسب ہیں۔‘‘سرکاری ذرائع ابلاغ نے بتایا ہے کہ حکام 626 اسکولوں اور دیگر تعلیمی اداروں کو بند کرنے کا اقدام کر رہے ہیں ان اسکولوں کا تعلق ملک بدر عالم دین فتح اللہ گولین سے ہے، جنھوں نے اپنی تعلیمات کے فروغ کے لیے ملک بھر میں اسکولوں کی شاخیں قائم کر رکھی ہیں۔
First published: Jul 21, 2016 10:30 AM IST