உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ایمرجنسی کے اعلان کے بعد سری لنکا میں مظاہرہ، کرفیو کی خلاف ورزی کرنے پر600سے زیادہ گرفتار

    Youtube Video

    راجا پاکسے کے بھتیجے اور وزیر کھیل نمل راجا پکسے نے کہا کہ انٹرنیٹ سروس پر پابندی کا فائدہ نہیں ہے، کیونکہ بہت سے لوگ سوشل میڈیا سائٹس سے منسلک ہونے کے لیے وی پی این کا استعمال کریں گے۔

    • Share this:
      کولمبو: ملک کے مغربی صوبے میں اتوار کو 600 سے زائد افراد کو 36 گھنٹے کے ملک گیر کرفیو کی خلاف ورزی کرنے اور شدید معاشی بحران کے تناظر میں حکومت مخالف ریلی نکالنے کی کوشش کرنے پر گرفتار کیا گیا۔ اپوزیشن ارکان پارلیمنٹ نے اپنے لیڈر سجیت پریماداسا کی قیادت میں حکومت کی طرف سے ہفتے کے آخر میں کرفیو کی خلاف ورزی کرنے پر تاریخی چوراہے کی طرف احتجاجی مارچ شروع کیا تھا۔ حکومت نے احتجاج کے پہلے سے طے شدہ پروگرام کے پیش نظر ہفتے کے آخر میں کرفیو کا اعلان کیا تھا۔

      پریماداسا نے کہا، ’ہم احتجاج سے متعلق لوگوں کے حقوق کی خلاف ورزی کرنے کے لیے حکومت کی طرف سے پبلک سیفٹی آرڈیننس کے نفاذ کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔‘

      یہ بھی پڑھیں:
      سری لنکا میں بڑھ گیا بحران- ایک کپ چائے 100 روپے اور بریڈ کا پیکیٹ 150 روپے میں مل رہا

      'کولمبو گزٹ' میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق اتوار کو مغربی صوبے میں مجموعی طور پر 664 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ اتوار کے روز مجوزہ 'عرب بہار' طرز کے احتجاج سے قبل ملک بھر میں کرفیو کا اعلان کیا گیا تھا۔

      صدر گوٹابایا راجاپکسے نے جمعہ کی رات دیر گئے ایک خصوصی گزٹ نوٹیفکیشن جاری کیاتھا، جس میں یکم اپریل سے سری لنکا میں فوری طور پر ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔ حکومت نے اتوار کو انٹرنیٹ سروس پر پابندی کا حکم دیتے ہوئے سوشل میڈیا تک عوام کی رسائی کو منقطع کر دیا اور لوگوں کے ایک جگہ جمع ہونے پر پابندی لگا دی تھی۔

      یہ بھی پڑھیں:
      Sri Lanka میں بحران، چینی 290 تو چاول 500 روپے کلو، پٹرول پمپوں فوج تعینات، جانیے وجہ

      راجا پاکسے کے بھتیجے اور وزیر کھیل نمل راجا پکسے نے کہا کہ انٹرنیٹ سروس پر پابندی کا فائدہ نہیں ہے، کیونکہ بہت سے لوگ سوشل میڈیا سائٹس سے منسلک ہونے کے لیے وی پی این کا استعمال کریں گے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: