உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Sri Lanka میں پھر لاگو کی گئی ایمرجنسی، حکومت مخالف مظاہروں سے نمٹنے کے لئے صدر نے کیا اعلان

    سری لنکا میں دوبارہ ایمرجنسی نافذ۔

    سری لنکا میں دوبارہ ایمرجنسی نافذ۔

    Sri Lanka Emergency imposed: جمعہ کو کابینہ کے خصوصی اجلاس کے دوران وزیر اعظم مہندا راجا پکسے پر غیر متوقع طور پر مستعفی ہونے کے لیے دباؤ بڑھ گیا۔ ذرائع کے مطابق بعض وزراء نے انہیں کسی بھی قیمت پر استعفیٰ دینے کے لئے کہا۔ لیکن، مہندرا نے عہدہ چھوڑنے سے انکار کر دیا۔

    • Share this:
      Sri Lanka Emergency imposed:کولمبو: معاشی بحران کی وجہ سے مشکلات میں گھرے سری لنکا کے صدر گوٹابایا راجا پکسے نے جمعہ کی آدھی رات سے ملک میں ہنگامی حالت کا اعلان کر دیا ہے۔ سری لنکا میں ملک بھر میں جاری مظاہروں کے درمیان ایک ماہ سے زائد عرصے میں دوسری بار ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی ہے۔ ملک کے عوام خراب معیشت کی وجہ سے صدر کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

      یہ بھی پڑھیں:
      Russia Ukraine War:روس کے نشانے پرغیرملکی ہتھیار،چارگوداموں سمیت40فوجی ٹھکانے کیے تباہ

      پولیس اور سیکورٹی فورس کو اضافی حقوق
      سری لنکا میں راجا پکسے کی جانب سے ایمرجنسی کے اعلان کے بعد پولیس اور سکیورٹی فورسز کو مزید اختیارات مل گئے ہیں۔ اب وہ من مانی طور پر لوگوں کو گرفتار اور حراست میں لے سکتے ہیں۔ تاہم صدر کے میڈیا سیل کا کہنا ہے کہ راجا پکسے نے ملک میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ اس لیے کیا ہے تاکہ کاروبار آسانی سے چل سکے۔ اس کا مقصد عوامی تحفظ اور ضروری خدمات کو برقرار رکھنا ہے۔ اے این آئی کے مطابق پارلیمنٹ میں کشیدہ ماحول کو دیکھتے ہوئے اسپیکر مہندا یاپا ابھے وردھنے نے اجلاس 17 مئی تک ملتوی کر دیا ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      PM Modi Arrives In Paris:مودی کی فرانسیسی صدر سےملاقات، دوبارہ جیت پر دی مبارکباد

      مہندرا نے استعفیٰ دینے سے کیا انکار
      جمعہ کو سری لنکا کی کابینہ کے خصوصی اجلاس کے دوران وزیر اعظم مہندا راجا پکسے پر غیر متوقع طور پر مستعفی ہونے کے لیے دباؤ بڑھ گیا۔ ذرائع کے مطابق بعض وزراء نے انہیں کسی بھی قیمت پر استعفیٰ دینے کے لئے کہا۔ لیکن، مہندرا نے عہدہ چھوڑنے سے انکار کر دیا۔ ان کے حامیوں نے ان سے کہا کہ وہ عہدے پر رہیں کیونکہ لوگ ان سے زیادہ صدر گوٹابایا کا استعفیٰ چاہتے ہیں۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: