ہوم » نیوز » عالمی منظر

پارلیمنٹ اگر پھانسی کے قانون کو منظور کرتی ہے تو ہم اسے ضرور نافذ کریں گے: اردوغان

استنبول۔ ترکی میں تختہ پلٹ کی ناکام کوشش کرنے والے باغیوں کو پھانسی دئیے جانے کی مانگ پر صدر رجب طیب اردوغان نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ اگر سزائے موت کے قانون کو منظوری دیتی ہے تو باغیوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لئے وہ اس پر دستخط کرنے میں تاخیر نہیں کریں گے۔

  • Agencies
  • Last Updated: Jul 19, 2016 12:24 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
پارلیمنٹ اگر پھانسی کے قانون کو منظور کرتی ہے تو ہم اسے ضرور نافذ کریں گے: اردوغان
فائل فوٹو

استنبول۔ ترکی میں تختہ پلٹ کی ناکام کوشش کرنے والے باغیوں کو پھانسی دئیے جانے کی مانگ پر صدر رجب طیب اردوغان نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ اگر سزائے موت کے قانون کو منظوری دیتی ہے تو باغیوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لئے وہ اس پر دستخط کرنے میں تاخیر نہیں کریں گے۔


العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق، ترکی صدر نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ باغیوں کی سزا کا فیصلہ پارلیمنٹ پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ اگر پارلیمنٹ باغیوں کو سزائے موت دینے کی منظوری دیتی ہے تو وہ اس فیصلہ کو نافذ کریں گے۔ واضح رہے کہ ترکی میں فی الحال پھانسی کی سزا پر پابندی ہے۔ وہاں پر سنہ 1984 سے کسی کو پھانسی نہیں دی گئی۔


خیال رہے کہ ترکی میں سنہ 2004ء میں سزائے موت کا قانون اس وقت منسوخ کردیا گیا تھا جب ترکی یوروپی یونین میں شمولیت کے لیے کوشاں تھا۔ حال ہی میں فوج کے ایک باغی ٹولے کی جانب سے منتخب حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش ناکام بنائے جانے کے بعد ترکی میں باغیوں کو سزائے موت دینے کا مطالبہ زور پکڑ گیا ہے۔ ناکام فوجی بغاوت کی سازش کے دوران ہنگاموں میں 200 سے زاید افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔


صدر اردوغان نے کہا کہ سزائے موت کی منظوری کے لیے پارلیمنٹ سے فیصلہ آنے کے بعد صدر مملکت کی حیثیت سے میں اس کی منظوری دینے میں تاخیر نہیں کروں گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت وقت کے خلاف بغاوت کی سازش کرنے والوں کو عوام سزائے موت دینے کا مطالبہ کررہے ہیں۔

 
First published: Jul 19, 2016 12:17 PM IST