உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    پاکستان کو اب یوروپی یونین سے جھٹکا، کہا۔ چاند سے نہیں آتے ہندوستان میں حملہ کرنے والے دہشت گرد

    عمران خان: فائل فوٹو

    عمران خان: فائل فوٹو

    تمام کوششوں کے بعد بھی پاکستان کو عالمی برادری سے کشمیر معاملہ پر حمایت نہیں مل پا رہی ہے۔ اس بار یوروپی یونین کی پارلیمنٹ نے کشمیر معاملہ پر پاکستان کی کرکری کر دی ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
      نئی دہلی۔ پاکستان کو کشمیر معاملہ پر یکے بعد دیگرے سخت جھٹکے مل رہے ہیں۔ اس کے باوجود پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان سمیت وہاں کے چھوٹے۔ بڑے لیڈران اس معاملہ کو طول دینے سے باز نہیں آ رہے ہیں۔ پاکستان کشمیر معاملہ کو لے کر کبھی تو گھٹنے ٹیک دیتا ہے تو کبھی عمران خان پاک مقبوضہ کشمیر کے نوجوانوں کو ہندوستان میں دراندازی کے لئے اکساتے ہیں۔ تمام کوششوں کے بعد بھی پاکستان کو عالمی برادری سے اس معاملہ پر حمایت نہیں مل پا رہی ہے۔ اس بار یوروپی یونین کی پارلیمنٹ نے کشمیر معاملہ پر پاکستان کی کرکری کر دی ہے۔

      یوروپین کنزرویٹیوس اینڈ ریفارمسٹ گروپ، پولینڈ کے رسجارد کرزانیکی نے کہا کہ ہندوستان دنیا کے عظیم جمہوری ملکوں میں سے ایک ہے۔ پولینڈ نے کہا کہ ہمیں ہندوستان اور خاص کر جموں وکشمیر میں دہشت گردانہ حملوں کو دیکھنا ہو گا۔ ہندوستان میں حملہ کرنے والے دہشت گرد چاند سے نہیں اترتے ہیں۔ وہ پڑوسی ملکوں سے ہی آتے ہیں۔ ہمیں ہندوستان کی حمایت کرنی چاہئے۔



      یوروپین پیپلز پارٹی کے گروپ( کرشچین ڈیموکریٹس)، اٹلی کے لیڈر فلویو مارشلو نے یوروپی یونین کی پارلیمنٹ میں کہا کہ پاکستان نے نیوکلیائی جنگ کی دھمکی دی ہے۔ پاکستان ایسا ملک ہے جہاں بیٹھ کر دہشت گرد بغیر کسی ڈر کے یوروپ میں دہشت گردانہ حملے کی سازش رچ سکتے ہیں۔ وہیں، پاکستان میں حقوق انسانی کی کھلے عام خلاف ورزی ہو رہی ہے اور وہ اس بات کا ذکر تک نہیں کرتا ہے۔

      یوروپی یونین کی پارلیمنٹ نے ہندوستان اور پاکستان کو اس معاملہ پر براہ راست ایک دوسرے سے بات کرنے کی صلاح دی ہے تاکہ پر امن طریقہ سے اس کا حل نکالا جا سکے۔ دراصل، پاکستان عالمی پلیٹ فارموں پر مسلسل اس معاملہ میں کسی تیسرے فریق کی ثالثی کی مانگ کر رہا ہے۔ حالانکہ، دنیا کے زیادہ تر ممالک پاکستان کی سن نہیں رہے ہیں۔ زیادہ تر ممالک اسے کشمیر معاملہ پر ہندوستان سے براہ راست طور پر بات کرنے کی صلاح دے رہے ہیں۔



      First published: