ہوم » نیوز » عالمی منظر

پاکستان کی طرف سے ’دہشت گردی کی فیکٹری‘ کو حمایت دینے کی حکمت عملی ناکام: حسین حقانی

امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر اور مصنف حسین حقانی نے ’واشنگٹن پوسٹ‘ میں شائع اپنے ایک مضمون میں کہا کہ پاکستان کے ذریعہ کشمیر میں ’دہشت گردی کی فیکٹری‘ کو حمایت دینے کا منصوبہ ناکام ہو گیا۔

  • UNI
  • Last Updated: Mar 02, 2019 02:46 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
پاکستان کی طرف سے ’دہشت گردی کی فیکٹری‘ کو حمایت دینے کی حکمت عملی ناکام: حسین حقانی
امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر اور مصنف حسین حقانی نے ’واشنگٹن پوسٹ‘ میں شائع اپنے ایک مضمون میں کہا کہ پاکستان کے ذریعہ کشمیر میں ’دہشت گردی کی فیکٹری‘ کو حمایت دینے کا منصوبہ ناکام ہو گیا۔

 جموں و کشمیر کے پلوامہ میں خوفناک دہشت گردانہ حملے کے بعد پاکستان کی بین الاقوامی سطح پر فضیحت ہونے کے بعد امریکہ میں پاکستان کے ایک سابق سفیر اور جانےمانے مصنف نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر میں ’دہشت گردی کی فیکٹری ‘کو حمایت دینے کی پاکستان کی تین دہائی پرانی حکمت عملی ناکام ہو گئی ہے۔ امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر اور مشہور مصنف حسین حقانی نے ’واشنگٹن پوسٹ‘ میں شائع اپنے ایک مضمون میں یہ بات کہی ہے۔


پلوامہ میں 14 فروری کو پاکستان میں واقع جیش محمد کے خود کش دہشت گردانہ حملہ کے بعد پاکستان کا ایک خیمہ بھی دہشت گردی کے معاملہ پر اسے’بے نقاب‘ کر رہا ہے۔ اس حملے میں مرکزی ریزرو فورس کے 40 سے زائد جوان شہید ہو گئے تھے۔  حقانی نے اپنے مضمون میں کہا ’’کچھ پاکستانیوں کو نگلنے میں یہ کڑوا لگ سکتا ہے لیکن یہ سچ ہے کہ جموں و کشمیر میں دہشت گردی کو حمایت دینے کی پاکستان کی تین دہائی پرانی حکمت عملی ناکام ہو گئی ہے۔ کشمیری مسلمانوں کو حمایت دینے کا دعوی کرنے والے پاکستان کی پالیسی نے ان (کشمیری مسلمانوں کی) زندگی کو اور مشکل کر دیا ہے‘‘۔ انہوں نے کہا’’سرحد پار سے تشدد کو حمایت دینے سے ہندوستان کو کشمیر میں انسانی حقوق کے معاملہ پر بین الاقوامی حمایت ملی ہے۔ پاکستان دہشت گردی کو مکمل حمایت دے رہا ہے، اگرچہ، ہماری حکومتیں سرکاری طور پر اس کی تردید کرتی آ رہی ہیں‘‘۔


مصنف نے کہا کہ پابندی کے باوجود پاکستان میں واقع دہشت گرد تنظیمیں کھلے طور پر دہشت گردانہ حملوں کو انجام دے رہی ہیں اور وہ ہندوستان میں ہوئے حملوں کی ذمہ داری بھی لے رہی ہیں۔ ہندوستان -پاكستان کے تعلقات میں حالیہ کشیدگی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا’’اسٹریٹجک نقطہ نظر سے ہندوستان کی نریندر مودی حکومت کو’ایک سافٹ اسپاٹ‘ مل گیا ہے جس کے تحت وہ دو جوہری طاقتوں کے ممالک کے درمیان جنگ کی صورت حال سے بچنے والے ہر اقدار پر عمل کرتے ہوئے دہشت گردانہ حملے کے جواب میں قدم اٹھا سکتی ہے۔ اسے سال 2016 میں خصوصی فورسز کے ذریعہ دہشت گردوں کے خلاف زمین پر ہونے والے حملے اور اس سال 26 فروری کو دہشت گردوں کے ٹھکانے پر ہونے والی ہوائی کارروائی کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے‘‘۔


سابق سفارت کار نے پاکستان کی عمران خان حکومت کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ جب تک وہ دہشت گرد گروپوں کو حمایت دینا بند نہیں کرے گی اس وقت تک دونوں ممالک کے درمیان تنازعہ ختم نہیں ہوگا۔ حسین حقانی نے کہا’’پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان امن کا ماحول پیدا کرنے کے لئے خیر سگالی کے تحت ہندوستانی ونگ کمانڈر ابھینندن وردھمان کو رہا کررہے ہیں، لیکن اس سے تنازعہ نہیں تھمے گا۔ حالت جنگ کو صحیح معنوں میں ختم کرنے کے لئے پاکستان کو دہشت گرد گروپوں کو حمایت دینا بند کرنا ہوگا۔‘‘ قابل ذکر ہے کہ 14 فروری کو جموں و کشمیر کے پلوامہ دہشت گردانہ حملے میں سی آر پی ایف کے 40 جوانوں کے شہید ہونے کے بعد ہندوستان نے 26 فروری کو پاکستان کے دہشت گردانہ ٹھکانوں کے خلاف کارروائی کی تھی۔


اس سے بوکھلائے پاکستان نے دوسرے دن اپنے ایف -16 جنگی طیارے سے جموں و کشمیر میں ہندوستانی فوجی ٹھکانے پر حملے کی کوشش کی تھی جسے بہادر بیٹے ابھینندن نے ناکام کر دیا لیکن اس دوران ان کا مگ طیارہ گر کر تباہ ہوگیا۔ وہ ہوائی جہاز سے پیراشوٹ سے اترے لیکن بدقسمتی سے ان کے قدم پاکستان کی سرحد میں پڑے جس کے بعد انہیں پاکستان نے حراست میں لے لیا۔ ونگ کمانڈر نے وہاں حیرت انگیز جرات کا ثبوت دیا۔ اس کے بعد ہندوستانی قیادت اور سفارت کاری کی بدولت پاکستان پر بین الاقوامی دباؤ پڑا جس سے اسے ابھینندن کو تقریباً 60 گھنٹے کے اندر وطن روانہ کرنا پڑا۔

First published: Mar 02, 2019 02:46 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading