உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Exclusive: حجاب تنازعہ میں القاعدہ کی انٹری! خفیہ ذرائع نے کہا- جواہری کے ویڈیو سے ہندوستان میں حمایت حاصل کرنا چاہتی ہے تنظیم

    جے شری رام کے جواب میں اللہ اکبر کا نعرہ لگانے والی طالبہ مسکان کی القاعدہ سربراہ ایمن الجواہری نے جم کر تعریف کی ہے۔

    جے شری رام کے جواب میں اللہ اکبر کا نعرہ لگانے والی طالبہ مسکان کی القاعدہ سربراہ ایمن الجواہری نے جم کر تعریف کی ہے۔

    Hijab Row and Al-Qaeda Chief Video: ہندوستان کی سیکورٹی ایجنسیوں سے منسلک ذرائع نے کہا کہ الجواہری کے اس بیان کا ہندوستان میں کوئی اثر نہیں ہوگا۔ صرف کچھ شدت پسند عناصر اسے اپنی حمایت کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ القاعدہ ایک شدت پسند تنظیم ہے اور ہندوستان میں اس کی حمایت کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی: ہندوستان میں حجاب تنازعہ (Hijab Row in India) پر مرکوز القاعدہ سربراہ (Al-Qaeda Chief) ایمن الجواہری کا نیا ویڈیو ملک میں اپنی حمایت کی بنیاد بڑھانے کے لئے ہے۔ بدھ کے روز خفیہ ذرائع نے CNN-News18 کو اس کی جانکاری دی۔ اس سے پہلے یہ بین الاقوامی دہشت گرد تنظیم کشمیر کے موضوع کو لے کر ہندوستان کو ہدف بناتا تھا، لیکن اس بار یہ دہشت گرد کچھ دیگر خصوصی معاملوں پر اپنی رائے ظاہر کر رہے ہیں۔

      اس ویڈیو میں الجواہری نے مبینہ طور پر کرناٹک کی ایک طالبہ مسکان خان کی تعریف کی۔ جنہوں نے حجاب حامی احتجاجی مظاہرہ میں ایک اہم کردار ادا کیا اور ’جے شری رام‘ کے نعرے لگانے والے لڑکوں کے ایک گروپ کا مقابلہ کرنے کے لئے ‘اللہ اکبرُ بول کر جواب دیا۔ دہشت گرد تنظیم کے سربراہ نے یہ بھی کہا کہ ہندوستانی مسلمانوں کو اس استحصال پر ردعمل ظاہر کرنا چاہئے۔ گزشتہ کچھ ماہ میں یہ القاعدہ سربراہ کا یہ پہلا ویڈیو تھا۔

      امریکی سائٹ انٹلی جینس گروپ کی طرف سے دستیاب کرائے گئے عربی زبان کے ویڈیو کلپ میں الجواہری نے کہا کہ ہمیں ان غلط فہمیوں کو دور کرنا چاہئے، جو ہمیں خوفزدہ کرتی ہے… ہمیں ہندوستان کی کافر ہندو جمہوریت کے دھوکے میں آنا چھوڑ دینا چاہئے، جس کی شروعات مسلمانوں پر ظلم کرنے کے لئے ایک آلہ کے طور پر ہوئی۔

      یہ بھی پڑھیں۔

      عمران خان کا دعویٰ نکلا جھوٹا، خفیہ ایجنسیوں کو نہیں ملا ’غیرملکی سازش‘ کا کوئی ثبوت
       خفیہ ذرائع نے کہا کہ القاعدہ سربراہ کا یہ ویڈیو پیغام ہندوستانی مسلمانوں کے لئے آنکھیں کھولنے والا ہے کیونکہ حجاب کے جذباتی موضوع کا استعمال اب دنیا کے ٹاپ دہشت گرد تنظیم جیسے اسلامک اسٹیٹ اور القاعدہ کے ذریعہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی مسلمانوں کو اب اس موضوع کو لے کر جاری مخالفت پر پھر غور کرنا چاہئے۔ انٹلی جینس ذرائع نے کہا کہ کشمیر میں بھی حجاب کو لے کر جاری احتجاج کو دہشت گرد تنظیم کو پوری حمایت ہے۔


      واضح رہے کہ کرناٹک کے اڈپی ضلع میں جنوری میں حجاب کو لے کر تنازعہ شروع ہوا تھا اور یہ موضوع ملک میں سیاسی بحث کا موضوع بن گیا تھا  اور اسے لے کر ریاست میں جگہ جگہ احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ حالانکہ کرناٹک ہائی کورٹ نے مسلم طالبات کو کلاس روم میں حجاب پہن کر جانے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا اور کہا تھا کہ اس معاملے میں اسکول یونیفارم کوڈ پر عمل کیا جائے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: