உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    EXCLUSIVE: پاکستان کے ہاتھ لگا افغانستان سرکار کا 'سکریٹ ڈیٹا'؟ کابل سے دستاویز لے کر نکلے تین طیارے

    پاکستان کے ہاتھ لگا افغانستان سرکار کا 'سکریٹ ڈیٹا'؟ کابل سے دستاویز لے کر نکلے تین طیارے ۔ فائل فوٹو ۔ رایٹرس ۔

    پاکستان کے ہاتھ لگا افغانستان سرکار کا 'سکریٹ ڈیٹا'؟ کابل سے دستاویز لے کر نکلے تین طیارے ۔ فائل فوٹو ۔ رایٹرس ۔

    Afghanistan Crisis: سابق قومی سلامتی کے مشیر کے ساتھ کام کررہے ذرائع نے سی این این نیوز 18 کو بتایا کہ یہ خفیہ دستاویز تھے ، جنہیں پاکستان کی انٹر سروسیز انٹلی جینس ایجنسی نے اپنے قبضہ میں لے لیا ہے ۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
      کابل : طالبان کی حکومت والے افغانستان اور پاکستان کے تعلقات کے حوالے سے چونکا دینے والی جانکاری سامنے آئی ہے ۔ خبر ہے کہ افغان حکومت کے کئی خفیہ دستاویز پاکستان کے ہاتھ لگ گئے ہیں ۔ بتایا جا رہا ہے کہ ان دستاویز سے سیکورٹی کیلئے بڑا خطرہ پیدا ہوسکتا ہے ۔ ایک دن پہلے ہی پاکستان نے افغانستان کی معیشت کو کنٹرول میں لینے کے ارادے سے کابل کیلئے اقتصادی منصوبوں کا اعلان کیا تھا ۔

      ذرائع کے مطابق کابل میں انسانی امداد لے کر پہنچے تین سی 170 طیارے دستاویز سے بھرے بیگ لے کر روانہ ہوئے ہیں ۔ یہ ایسے وقت میں ہوا ہے ، جب طالبان نے بھی نئی عبوری حکومت کی حلف برداری کیلئے مقرر گیارہ ستمبر یعنی امریکہ میں ہوئے دہشت گردانہ حملے کی 20 ویں سالگرہ کی تاریخ ملتوی کردی ہے ۔ طالبان نے سات ستمبر کو عبوری حکومت کا اعلان کیا تھا ۔

      سابق قومی سلامتی کے مشیر کے ساتھ کام کررہے ذرائع نے سی این این نیوز 18 کو بتایا کہ یہ خفیہ دستاویز تھے ، جنہیں پاکستان کی انٹر سروسیز انٹلی جینس ایجنسی نے اپنے قبضہ میں لے لیا ہے ۔ ان دستاویز میں اہم طور پر این ڈی ایس کے خفیہ دستاویز ، ہارڈ ڈسک اور دیگر ڈیجیٹل جانکاریاں تھیں ۔ اعلی سطحی ذرائع نے بتایا کہ اس ڈیٹا کو آئی ایس آئی اپنے استعمال کیلئے تیار کرے گا ، جو سیکورٹی کیلئے بڑا خطرہ بن سکتا ہے ۔ ذرائع نے جانکاری دی ہے کہ یہ طالبان سرکار کو پاکستان پر منحصر بنادے گا ۔

      ذرائع نے جانکاری دی کہ ڈیٹا لائیو تھا ، کیونکہ پچھلی افغان حکومت نے اس کے قبضہ کی امید نہیں کی تھی ۔ حالانکہ فوجی گروپ کا ان دستاویز پر کوئی کنٹرول نہیں ہے ، کیونکہ ان کے انچارج ملازم کام پر نہیں لوٹے تھے ۔ انہوں نے بتایا کہ دستاویز کو افغانستان میں پاکستان کے سفیر منصور احمد کی مدد سے لیک کیا گیا ہے ۔

      وہیں دونوں پڑوسی ممالک نے دو طرفہ کاروبار کیلئے پاکستانی کرنسی کا استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اس سے پہلے افغانستان اور پاکستان میں دوطرفہ کاروبار امریکی ڈالر میں ہوتا تھا جبکہ افغانستان کی کرنسی زیادہ مضبوط ہے ۔ اس کے ذریعہ پاکستان کی کرنسی کی افغان کاروباریوں اور تاجر برادری پر گرفت مضبوط ہوجائے گی ۔

      کچھ ہی دنوں پہلے آئی ایس آئی سربراہ حمید فیض کو کابل میں دیکھا گیا تھا ۔ تبھی سے یہ مانا جارہا تھا کہ پاکستان طالبان کی حکومت میں حصہ داری کی تلاش میں ہے ۔ اس کا بڑا مقصد افغانستان کی فوج میں ہورہی تبدیلیوں میں حقانی نیٹ ورک کو شامل کرنا تھا ۔ آئی ایس آئی کو حقانی نیٹ ورک کا سرپرست مانا جاتا ہے ، جو امریکہ اور اقوام متحدہ کی طرف سے نامزد دہشت گرد گروپ ہے ۔ حقانی نیٹ ورک کے سرغنہ سراج الدین حقانی کو وزیر بنایا گیا ہے ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: