உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Exclusive: طالبان نیکسس کے ساتھ ملی ہوئی ہے پاکستانی کی خفیہ ایجنسی ISI، قندھار میں جنگجووں سے کی ملاقات

    Exclusive: طالبان نیکسس کے ساتھ ملی ہوئی ہے پاکستانی کی خفیہ ایجنسی ISI، قندھار میں جنگجووں سے کی ملاقات

    Exclusive: طالبان نیکسس کے ساتھ ملی ہوئی ہے پاکستانی کی خفیہ ایجنسی ISI، قندھار میں جنگجووں سے کی ملاقات

    سی این این نیوز18 نے پہلے ہی اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ پاکستان کابل میں ایک نئی سرکار کی تشکیل میں اہم کردار نبھانے کیلئے تیار ہے ۔ قیاس آرائی کی جارہی ہے کہ سرکار کی تشکیل پر بات چیت کرنے کیلئے پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اتوار کو کابل پہنچ سکتے ہیں ۔

    • Share this:
      افغانستان پر طالبان کے قبضہ کے بعد پوری دنیا کی نگاہیں وہاں کے حالات پر ٹکی ہوئی ہیں ۔ خبر ہے کہ طالبان جنجگووں کے ساتھ ہوئی بات چیت میں پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی بھی شامل ہے ۔ خود پاکستان کی عمران حکومت نے اس کی تصدیق کی ہے ۔ سی این این نیوز 18 کے پاس کچھ ایسی تصویریں ہیں جو اس بات کی گواہ ہیں کہ پاکستان طالبان کے ساتھ ملا ہوا ہے اور کابل میں نئی حکومت کی تشکیل میں مدد کررہا ہے ۔ اس تصویر میں آئی ایس آئی سربراہ حمید فیض قندھار میں طالبان کی اعلی قیادت کے ساتھ نظر آرہے ہیں ۔

      حمید فیص ، طالبانی لیڈر ملا عبد الغنی برادراور دیگر لیڈروں کے ساتھ ہفتہ کو قندھار میں برادر کے کابل جانے سے پہلے نماز ادا کرتے دیکھے گئے ۔ سی این این نیوز18 نے پہلے ہی اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ پاکستان کابل میں ایک نئی سرکار کی تشکیل میں اہم کردار نبھانے کیلئے تیار ہے ۔ قیاس آرائی کی جارہی ہے کہ سرکار کی تشکیل پر بات چیت کرنے کیلئے پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اتوار کو کابل پہنچ سکتے ہیں ۔

      محمود قریشی نے جمعہ کو کہا کہ پاکستان افغانستان میں مثبت کردار نبھانے کیلئے تیار ہے ۔ کیونکہ اس نے طالبان باغیوں اور جنگ سے تباہ ملک کے سابق حکمرانوں سے آپسی صلاح و مشورہ کے بعد ایک جامع سیاسی سرکار بنانے کی اپیل کی تھی ۔ پاکستان کے وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ ان کا ایک سفیر افغانستان میں موجود ہے اور سبھی شخصیات سے رابطے میں ہے ۔

      افغانستان پر طالبان جنگجووں کے قبضہ کرتے ہی پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا تھا کہ پہلے کی افغان حکومت طالبان کے خلاف پروپیگنڈہ پھیلا رہی تھی ، جو اب جھوٹی ثابت ہوئی ہے ۔ کیونکہ طالبان نے سرکاری اہلکاروں کیلئے عام معافی کا اعلان کیا ہے اور ساتھ میں ہی یہ بھی کہا ہے کہ لڑکیوں کو پڑھنے سے نہیں روکا جائے گا ۔

      بتادیں کہ پاکستان ہمیشہ سے ہی طالبان کا پرزور حامی رہا ہے ۔ یہاں تک کہ خود پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے افغانستان میں طالبان حکومت کا خیر مقدم کیا ہے ۔ عمران خان نے طالبان کی واپسی کو غلامی کی زنجیر کو توڑنے والا تک بتا دیا تھا ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: