உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    پاکستانی فوج سے ناراضگی عمران خان ’ذلت‘ کا سبب، وزیر اعظم عہدے سے چھٹی طے

    عمران خان کا وزیر اعظم عہدے سے ہٹنا طےِِ، حکومت اور فوج کے درمیان تکرار بنی وجہ

    عمران خان کا وزیر اعظم عہدے سے ہٹنا طےِِ، حکومت اور فوج کے درمیان تکرار بنی وجہ

    ذرائع نے سی این این-نیوز 18 کو ان دو متبادل کے بارے میں جانکاری دی ہے، جنہیں عمران خان کے سامنے رکھا گیا ہے۔ ان میں سے پہلا متبادل یہ ہے کہ عمران خان خود 20 نومبر سے پہلے عہدے سے استعفیٰ دیں اور دوسرا متبادل ہے کہ پارلیمنٹ میں اپوزیشن ان ہاوس تبدیلی کرے گا۔ ان دونوں ہی تبدیلیوں میں عمران خان کا عہدے سے جانا طے ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی: پاکستان (Pakistan) میں حکومت اور فوج کے درمیان خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے سربراہ کی تقرری کو لے کر تکرار تیز ہوگئی ہے۔ اب ذرائع کا یہاں تک کہنا ہے کہ فوج پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان (Imran Khan) کو عہدے سے ہٹانے کی تیاری کر رہی ہے۔ 20 نومبر کو لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل کا عہدہ سنبھالنے جا رہے ہیں۔ اسے لے کر عمران خان اور پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوا (Qamar Javed Bajwa) کے درمیان تکرار عروج پر ہے۔ قمر جاوید باجوا چاہتے ہیں کہ آئی ایس آئی سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو عہدے پر بنائے رکھا جائے۔

      عمران خان کا عہدے سے ہٹنا طے

      ذرائع نے سی این این-نیوز 18 کو ان دو متبادل کے بارے میں جانکاری دی ہے، جنہیں عمران خان کے سامنے رکھا گیا ہے۔ ان میں سے پہلا متبادل یہ ہے کہ عمران خان خود 20 نومبر سے پہلے عہدے سے استعفیٰ دیں اور دوسرا متبادل ہے کہ پارلیمنٹ میں اپوزیشن ان ہاوس تبدیلی کرے گا۔ ان دونوں ہی تبدیلیوں میں عمران خان کا عہدے سے جانا طے ہے۔ ذرائع نے یہ بھی کہا ہے کہ آنے والے ہفتوں میں پاکستان کی برسراقتدار پارٹی پاکستان تحریک انصاف کا ساتھ اس کی دو اتحادی قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) اور پاکستان مسلم لیگ چھوڑ سکتے ہیں۔

      عمران خان اور پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوا کے درمیان تکرار عروج پر ہے۔
      عمران خان اور پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوا کے درمیان تکرار عروج پر ہے۔



      یہ بھی پڑھیں۔

      عمران خان کو ’بیک فٹ‘ پر لانے کےلئے’سازش‘ کر رہی ہے پاکستانی فوج، جانیں کیا ہے ماجرا


      ذرائع نے یہ بھی بتایا ہے کہ پی ٹی آئی کے پرویز کھٹک اور پاکستان مسلم لیگ کے شہباز شریف ممکنہ وزیر اعظم عہدے کے لئے اہم نام ہیں۔ پاکستان حکومت نے گزشتہ ہفتے ہی تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے سینکڑوں حامیوں کو رہا کیا ہے۔ تاکہ پُرتشدد جھڑپ کو ختم کیا جاسکے۔ یہ گروپ پاکستان کے خلاف احتجاج کر رہا تھا۔ اس کا مطالبہ تھا کہ اپریل میں گرفتار کئے گئے اس کے لیڈر سعد رضوی کو رہا کیا جائے۔

      لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم 20 نومبر کو آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل کا عہدہ سنبھالنے جا رہے ہیں۔
      لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم 20 نومبر کو آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل کا عہدہ سنبھالنے جا رہے ہیں۔


      یہ بھی پڑھیں۔

      پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم کو آئی ایس آئی کا سربراہ مقرر کیا


      اکتوبر میں سی این این - نیوز 18 نے بتایا تھا کہ ٹی ایل پی اور پاکستان کی عمران خان حکومت کے درمیان فوج ہی کشیدگی پیدا کر رہی ہے۔ اس کا مقصد عمران خان کو بیک فٹ پر لانا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ سب اس لئے ہوا ہے کہ پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوا، عمران خان حکومت کی طرف سے لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم کی تقرری میں تاخیر اور انہیں آئی ایس آئی کا ڈائریکٹر جنرل بنانے کی وجہ سے ناراض تھے۔

       
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: