உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Exclusive: گزشتہ سال خود کش حملے میں مارا گیا تھا ہبت اللہ اخوند زادہ، پاکستان نے رچی تھی سازش

    گزشتہ سال خود کش حملے میں مارا گیا تھا ہبت اللہ اخوند زادہ، پاکستان نے رچی تھی سازش

    گزشتہ سال خود کش حملے میں مارا گیا تھا ہبت اللہ اخوند زادہ، پاکستان نے رچی تھی سازش

    Hibatullah Akhundzada Died: ایک سینئر طالبان لیڈر عامر الممنن نے کہا ہے کہ ہبت اللہ اخندزادہ پاکستانی فوج کے ذریعہ حامی خود کش حملے میں ’شہید‘ ہوگیا تھا۔

    • Share this:
      نئی دہلی: کئی ماہ تک چلے پراسرار ماحول کے بعد اب طالبان (Taliban) نے کنفرم کردیا ہے کہ اس کا سپریم لیڈر ہبت اللہ اخوند زادہ (Hibatullah Akhundzada) مارا جاچکا ہے۔ سی این این - نیوز 18 کو ذرائع کے حوالے سے جانکاری ملی ہے کہ سال 2016 سے طالبان کے سربراہ کے عہدے پر فائز رہے اخند زادہ 2020 میں پاکستان میں ایک خود کش حملے میں مارا گیا تھا۔

      ایک سینئر طالبان لیڈر عامر الممنن نے کہا ہے کہ ہبت اللہ اخوند زادہ پاکستانی فوج کے ذریعہ خود کش حملے میں ’شہید‘ ہوگیا تھا۔ واضح رہے کہ سی این این - نیوز 18 نے پہلے بھی رپورٹ کی تھی کہ یا تو اخوند زادہ پاکستان کے قبضے میں ہے یا پھر اس کی فوج کے ذریعہ مار دیا گیا ہے۔

      طالبان کا اقتدار آنے کے بعد سے ہی قیاس آرائی جاری

      دراصل، اگست ماہ میں افغانستان پر طالبان کے قبضے کے بعد سے ہی ہبت اللہ اخوند زادہ کو لے کر قیاس آرائی کی جارہی ہے۔ لیکن طالبان کی طرف سے مسلسل کہا گیا کہ اخوند زادہ زندہ ہیں اور جلد ہی عوامی پر سامنے آئیں گے۔ حقیقت میں ہبت اللہ اخوند زادہ آج تک کبھی بھی لوگوں کے سامنے نہیں آیا۔ وہ پردے کے پیچھے رہ کر ہی آپریٹ کرتا رہا ہے۔ نیویارک پوسٹ کے ہولی میک کائے کے مطابق، اخوند زادہ کی جو تصویر انٹرنیٹ پر ہے، وہ بھی سالوں پرانی ہے۔

      طالبان لیڈروں میں بھی تھی افواہ

      اب جبکہ افغانستان میں طالبان کا اقتدار آچکا ہے تو لوگ اس کی عوامی موجودگی کا انتظار کر رہے تھے۔ لیکن جب ایسا نہیں ہوا تھا تو افواہوں کا دور شروع ہوگیا۔ افواہیں طالبان لیڈروں کے درمیان بھی چلنے لگیں کہ کیا ہبت اللہ اخوند زادہ زندہ ہیں؟ سال 2016 میں امریکہ نے ایک ڈرون حملے میں طالبان کے سربراہ اختر منصور کو مار گرایا تھا۔ اس کے بعد اخوند زادہ کو منصور کا جانشین بنانے کا اعلان کیا گیا۔ اخوند زادہ قندھار کے ایک مذہبی رہنما تھے۔ اسے ایک فجوی کمانڈر سے زیادہ ایک مذہبی لیڈر کے طور پر لوگ جانتے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ اخوند زادہ نے ہی اسلامی سزا کا آغاز کیا تھا، جس کے تحت وہ کھلے عام قتل کرنے یا چوری کرنے والوں کو مت کی سزا سناتے تھے۔ اس کے علاوہ وہ فتویٰ بھی جاری کرتے تھے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: