உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    افغانستان کی نئی حکومت میں پاکستان چاہتا ہے اہم کردار، ایران کی طرز پر ہوگا اقتدار

    افغانستان کی نئی حکومت میں پاکستان چاہتا ہے اہم کردار، ایران کی طرز پر ہوگا اقتدار

    افغانستان کی نئی حکومت میں پاکستان چاہتا ہے اہم کردار، ایران کی طرز پر ہوگا اقتدار

    Afghanistan Crisis: افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں نئے آئین کو نافذ کیا جاسکتا ہے۔ مانا جارہا ہے کہ 65-1964 کے دوران افغانستان کے آئین کو کچھ تبدیلی کے ساتھ دوبارہ نافذ کیا جاسکتا ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
      نئی دہلی: 15 اگست کے دن افغانستان پر طالبان کے قبضے کے بعد نئی حکومت کو لے کر سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں۔ افغانستان کے ذرائع نے نیوز 18 کو بتایا کہ حکومت بنانے کو لے کر قندھار میں گزشتہ 4 دنوں سے بات چیت جاری ہے اور آئندہ ایک ہفتے کے اندر طالبان کی نئی حکومت اپنی شکل لے سکتی ہے۔ ذرائع بتاتے ہیں کہ افغانستان میں نئی حکومت میں پاکستان اہم کردار چاہتا ہے۔ افغانستان کے ذرائع نے نیوز 18 سے کہا کہ افغانستان مں آئندہ حکومت ایران کی طرز پر ہوسکتی ہے، جہاں پر سپریم لیڈر کے طور پر طالبان لیڈ ہیبت اللہ اخندزادہ کو منتخب کیا جاسکتا ہے۔

      مانا جا رہا ہے کہ سپریم لیڈر قندھار میں ہی بنے رہیں گے جبکہ افغانستان میں سپریم کاونسل کی بھی تشکیل کی جائے گی جو راجدھانی کابل سے چلائی جائے گی۔ ذرائع نے بتایا کہ سپریم کاونسل میں 11 سے 72 لوگوں کو شامل کیا جاسکتا ہے اور وزیر اعظم اس کی قیادت کریں گے۔ وزیر اعظم عہدے کے لئے طالبانی لیڈر ملا عبدالغنی برادر یا ملا یعقوب ممکنہ نام بتائے جا رہے ہیں۔ سبھی وزارت وزیر اعظم کے ماتحت ہوں گے۔

      افغانستان کا بدل سکتا ہے آئین

      ذرائع نے نیوز 18 کو بتایا کہ افغانستان میں طالبان کے دوراقتدار میں نئے آئین کو نافذ کیا جاسکتا ہے۔ مانا جا رہا ہے کہ 65-1964 کے دوران افغانستان کے آئین کو کچھ تبدیلی کے ساتھ دوبارہ نافذ کیا جاسکتا ہے۔ طالبان کا ماننا ہے کہ موجودہ آئین غیر ملکی طاقتوں کی نگرانی میں بنایا گیا۔ جبکہ طالبان افغانستان کے صدر رہے محمد داود خان کی نگرانی میں بنائے گئے آئین کو کچھ تبدیلی کے ساتھ دوبارہ نافذ کرنا چاہتے ہیں۔ وہیں عبدالحکیم کو ملک کا چیف جسٹس بنایا جاسکتا ہے۔ فی الحال عبدالحکیم دوحہ میں رہتے ہیں اور وہاں کی طرف سے بات چیت میں شامل ہوتے ہیں۔

      طالبان وہی، لیکن شکل نئی

      افغانستان کے ذرائع نے نیوز 18 کو بتایا کہ طالبان اس بار اپنی شبیہ کو لے کر محتاط ہے۔ مانا جا رہا ہے کہ افغانستان میں اقتدار کی تبدیلی کے بعد طالبان فوج اور خفیہ محکموں میں کام کرچکے کچھ لوگوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس بار طالبان لوگوں کو نشانہ پہلے کی طرح نہیں بنا رہا ہے، جیسے پہلے بناتا رہا ہے۔

      احمد مسعود سے طالبان کی بات چیت جاری

      ذرائع نے نیوز 18 سے کہا کہ طالبان اور نیشنل ریزسٹنس فرنٹ کے احمد مسعود کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ افغانستان میں نئی حکومت کو لے کر احمد مسعود چاہتے ہیں کہ انہیں شامل کیا جائے، لیکن یہ بات چیت کسی انجام تک نہیں پہنچی۔ ذرائع نے بتایا کہ طالبان احمد مسعود سے بات چیت کر رہا ہے، لیکن امراللہ صالح سے بات چیت کے لئے طالبان دلچسپی نہیں دکھا رہا ہے۔ اگر طالبان اور احمد مسعود کے درمیان کوئی معاہدہ ہوتا ہے تو امراللہ صالح کے بارے میں بھی تبادلہ خیال ہوگا۔

      کابل سے جلد کمرشیل خدمات کی بحالی نہیں

      ذرائع نے نیوز 18 سے کہا کہ فی الحال کابل کے حامد کرزئی ایئر پورٹ سے کمرشیل پروازوں کی بحالی کا امکان کم ہے۔ کیونکہ امریکی فوج کے افغانستان سے لوٹنے کے بعد ایئر پورٹ پر رڈار اب کام نہیں کر رہا ہے۔ آپ کو بتادیں کہ ابھی بھی تقریباً 20 ہندوستانی افغانستان میں پھنسے ہوئے ہیں، ساتھ ہی سکھ اور ہندو طبقے کے لوگ بھی ہندوستان آنا چاہتے ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ اقوام متحدہ آئندہ ماہ کی 15 تاریخ تک رڈار کو بحال کرنے کے لئے قدم اٹھا رہا ہے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: