உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کشمیر میں مداخلت نہیں کرے گا طالبان، انس حقانی نے پاکستان سے رشتوں پر کی وضاحت

    Taliban in Afghanistan: حقانی نیٹ ورک کے بانی جلال الدین حقانی کے بیٹے انس حقانی نے کے ساتھ بات چیت میں ہندوستان اورپاکستان کے ساتھ تعلقات اور کشمیر موضوع پر طالبان کا موقف پیش کیا۔ آئیے بات چیت کے اہم نکات سے آپ کو روبرو کراتے ہیں۔

    Taliban in Afghanistan: حقانی نیٹ ورک کے بانی جلال الدین حقانی کے بیٹے انس حقانی نے کے ساتھ بات چیت میں ہندوستان اورپاکستان کے ساتھ تعلقات اور کشمیر موضوع پر طالبان کا موقف پیش کیا۔ آئیے بات چیت کے اہم نکات سے آپ کو روبرو کراتے ہیں۔

    Taliban in Afghanistan: حقانی نیٹ ورک کے بانی جلال الدین حقانی کے بیٹے انس حقانی نے کے ساتھ بات چیت میں ہندوستان اورپاکستان کے ساتھ تعلقات اور کشمیر موضوع پر طالبان کا موقف پیش کیا۔ آئیے بات چیت کے اہم نکات سے آپ کو روبرو کراتے ہیں۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
      کابل: طالبان (Taliban) کے اعلیٰ رہنماوں میں سے ایک انس حقانی (Anas Haqqani) نے واضح کر دیا ہے کہ وہ کشمیر موضوع (Kashmir Issue) پر مداخلت نہیں کریں گے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا ہے کہ طالبان ہندوستان سمیت دیگر ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتا ہے۔ امریکہ کی تقریباً دو دہائیوں کے بعد اپنے ملک واپسی ہوگئی ہے۔ اب تقریباً پورے افغانستان پر طالبان کا قبضہ ہے۔ اس نئے اسلامی اقتدار سے متعلق عالمی سطح پر چہ مگوئیاں ہیں۔

      حقانی نیٹ ورک کے بانی جلال الدین حقانی کے بیٹے انس حقانی نے کے ساتھ بات چیت میں ہندوستان اور پاکستان کے ساتھ تعلقات اور کشمیر موضوع پر طالبان کا موقف پیش کیا۔پیش خدمت ہیں بات چیت کے نکات۔

      سوال: آپ دنیا اور اس کی حمایت کو کس طرح سے دیکھتے ہیں؟

      جواب: ہماری پالیسی کے مطابق، ہم دوسروں کے معاملے میں مداخلت نہیں کریں گے اور دوسروں سے بھی ہمارے معاملات میں مداخلت کی امید نہیں کرتے ہیں۔ ہم خوش آئند طریقوں سے مسئلے کو حل کرنا چاہتے ہیں۔ ہمارے دروازے سبھی کے لئے کھلے ہیں۔ ہم باقی دنیا کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں۔

      سوال: حقانی نیٹ ورک کے پاکستان آئی ایس آئی اور پاکستانی فوج سے تعلقات ہیں۔ اب آپ افغانستان حکومت کا حصہ ہیں، تو ان کے ساتھ آپ کے تعلقات کیسے ہوں گے؟

      جواب: ہم نے 20 سال جدوجہد کیا ہے۔ ہمارے خلاف غلط پروپیگنڈہ چلایا جا رہا ہے اور یہ غلط ہے۔ حقانی نیٹ ورک کچھ نہیں ہے۔ ہم سبھی کے لئے کام کر رہے ہیں۔ پوری دنیا اور خاص طور پر ہندوستان کی میڈیا ہمارے خلاف غلط تشہیر کر رہی ہے۔ یہ ماحول خراب کر رہے ہیں۔ جنگ میں کبھی کوئی پاکستانی ہتھیار استعمال نہیں ہوا۔ یہ الزام جھوٹے اور بے بنیاد ہیں۔

      سوال: حقانی نیٹ ورک ہندوستان کے ساتھ کس طرح کے تعلقات چاہتا ہے؟

      جواب: ہم ہندوستان کے ساتھ اچھے رشتے چاہتے ہیں۔ ہم نہیں چاہتے کہ کوئی ہمارے بارے میں غلط سوچے۔ ہندوستان نے ہمارے دشمن کی 20 سالوں تک مدد کی ہے، لیکن ہم سب بھلا کر تعلقات آگے لے جانے کے لئے تیار ہیں۔

      سوال: آپ بھی پاکستان کی حمایت کرنے کے لئے کشمیر میں مداخلت کریں گے؟

      جواب: کشمیر ہمارے دائرہ اختیار میں نہیں ہے اور مداخلت کرنا ہماری حکمت عملی کے خلاف ہے۔ ہم اپنی حکمت عملی کے خلاف کیسے جاسکتے ہیں؟ یہ واضح ہے کہ ہم مداخلت نہیں کریں گے۔

      سوال: تو آپ کہہ رہے ہیں کہ آپ کشمیر موضوع پر مداخلت نہیں کریں گے؟ اور حقانی اور جیش محمد کے کشمیر موضوع پر حمایت نہیں کریں گے؟

      جواب: ہم نے کئی بار یہ واضح کر دیا ہے کہ اور میں یہ دوبارہ کہہ رہا ہوں کہ یہ صرف پروپیگنڈہ ہے۔

      سوال: اگر ہندوستان افغانستان میں زیر التوا پروجیکٹس کو پورا کرنا چاہتا ہے، تو کیا آپ اجازت دیں گے؟

      جواب: ہم آنے والے دنوں میں حکمت عملی پوری طرح واضح کردیں گے۔ ہم افغانستان کے لوگوں کے لئے پوری مدد چاہتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ صرف ہندوستان ہی نہیں، بلکہ پوری دنیا آئے اور ہماری حمایت کرے۔

      سوال: افغانستان میں کئی افغان سکھ اور ہندو ہیں۔ کیا آپ یہ یقینی بناسکتے ہیں کہ وہ محفوظ ہیں؟

      جواب: میں اس بات کا بھروسہ دلانا چاہتا ہوں کہ افغانستان میں سبھی محفوظ ہیں۔ شروعات میں کچھ گھبراہٹ اور خوف تھا، لیکن اب چیزیں ٹھہر گئی ہیں اور لوگ خوش ہیں۔ افغانستان کے سکھ اور ہندو بھی افغانستان کی دوسری برادری کی طرح ہیں اور وہ خوشی سے رہیں گے۔

      سوال: سال 2020 میں امریکہ نے گرودوارہ حملے کا الزام حقانی پر لگایا تھا، اس پر آپ کا کیا کہنا ہے؟

      جواب: یہ سب ہمارے دشمن اور میڈیا کا پروپیگنڈہ ہے۔ یہ غلط اور جھوٹ ہے۔ ہم نے ایسا کبھی نہیں کیا۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: