ہوم » نیوز » عالمی منظر

نیپال میں وزیر اعظم اولی کو عہدے سے ہٹانےکی قواعد تیز، آج ہوسکتا ہے فیصلہ

نیپال کے وزیر اعظم پی کے شرما اولی (Nepal Prime Minister PK Sharma Oli) کو کرسی سے ہٹائے جانے کا عمل تیز ہوتا نظر آرہا ہے۔ لی کےذریعہ ہندوستان کے خلاف دیئے گئے بیان کے بعد سے ہی انہیں نیپال کمیونسٹ پارٹی کے سینئرلیڈر غیرذمہ داربتا رہے ہیں۔

  • Share this:
نیپال میں وزیر اعظم اولی کو عہدے سے ہٹانےکی قواعد تیز، آج ہوسکتا ہے فیصلہ
نیپال میں وزیر اعظم اولی کو عہدے سے ہٹانے کی قواعد تیز، آج ہوسکتا ہے فیصلہ

کاٹھمانڈو: نیپال کے وزیر اعظم پی کے شرما اولی (Nepal Prime Minister PK Sharma Oli) کو کرسی سے ہٹائے جانے کا عمل تیز ہوتا نظر آرہا ہے۔ وزیر اعظم پی کے شرما اولی کے ذریعہ ہندوستان کے خلاف دیئے گئے بیان کے بعد سے ہی انہیں نیپال کمیونسٹ پارٹی (Nepal Communist Party) کے سینئر لیڈر غیر ذمہ دار بتا رہے ہیں۔ پارٹی کے بڑے اور چھوٹے لیڈروں کے ذریعہ ان سے مسلسل استعفیٰ کا مطالبہ (Demand Of Resignation) کیا جارہا ہے۔ آج نیپال کی برسر اقتدار جماعت کمیونسٹ پارٹی کی اسٹینڈنگ کمیٹی کی اہم میٹنگ ہونے والی ہے اور اس میں امکان ہےکہ نیپال کے وزیر اعظم اولی کو لےکر فیصلہ لیا جاسکتا ہے۔


وزیر اعظم کے حق میں منعقد ہوئی ریلی


نیپال میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق وزیر اعظم اولی اور این سی پی کےکارگزار صدر پشپ کمل دہل ’پرچنڈ’ نے 3 جولائی یعنی جمعہ کو وزیر اعظم کی رہائش گاہ میں میٹنگ کی۔ یہ میٹنگ کئی گھنٹوں تک چلی۔ اس میٹنگ میں دونوں ہی ٹاپ لیڈر کے درمیان ثالثی کرانے کی کوشش ہوئی اور دونوں کو ایک دوسرے پر بھروسہ رکھنےکو کہا گیا۔ اس میٹنگ کے بعد پرچنڈ نیپال کی صدر ودیا دیوی بھنڈاری سے ملنے گئے۔ اس کے بعد سے ہی یہ قیاس آرائی کی جارہی ہےکہ وزیر اعظم اولی کی کرسی جاسکتی ہے۔ وہیں دی ہمالین میں شائع خبر کے مطابق نیپال کے وزیر اعظم کے حق میں دو جولائی کو ایک ریلی منعقد کی گئی، جس میں شامل ہوئے ان کے حامیوں کا کہنا تھا کہ ان سے استعفیٰ نہیں مانگا جائے۔


وزیر اعظم کا تبصرہ کسی بھی طرح سے صحیح نہیں: پرچنڈ

این سی پی کے کارگزار صدر پرچنڈ نے وزیراعظم اولی کے ہندوستان مخالف بیان دینے کے بعد ردعمل میں کہا تھا کہ وزیر اعظم کا یہ تبصرہ کہ ہندوستان انہیں وزیر اعظم عہدے سے ہٹانے کی سازش کر رہا ہے، یہ نہ ہی سیاست اور ہی ڈپلومیٹک طریقے سے صحیح ہے۔ وزیر اعظم اولی نے گزشتہ اتوار کو یہ کہا تھا کہ انہیں عہدے سے ہٹانے کے لئے سفارت خانوں اور ہوٹلوں میں مختلف طرح کی سرگرمیاں چل رہی ہیں۔ انہوں نےکہا کہ نیپال کے نئے سیاسی نقشے میں تین ہندوستانی علاقوں لپولیکھ، کالاپانی اور لمپیادھرا کو شامل کئے جانے سے متعلق ان کی حکومت کے اقدام کے بعد کے کھیل میں کچھ نیپالی لیڈر بھی ملوث پائے گئے ہیں۔ وہیں دوسری طرف پارٹی کے ایک سینئر لیڈر نے گزشتہ دنوں ہی اسٹینڈنگ کمیٹی کی میٹنگ میں کہا کہ جنوبی پڑوسی ملک اور اپنی ہی پارٹی کے لیڈروں پر وزیر اعظم اولی کے ذریعہ الزام لگایا جانا مناسب نہیں ہے۔ پرچنڈ نے پہلے بھی اور بار بار یہ کہا ہے کہ حکومت اور پارٹی کے درمیان ہم آہنگی کا فقدان ہے۔
First published: Jul 04, 2020 11:47 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading