ہوم » نیوز » عالمی منظر

سفارتکاروں کے اخراج کا معاملہ : روس اور برطانیہ کے درمیان کشیدگی میں اضافہ

روسی وزارت خارجہ نے برطانوی حکومت کو صاف طور پر کہہ دیا ہے کہ وہ اپنے 50 فیصد سے زیادہ سفارتکاروں اور تکنیکی عملے کو فوری طور پر یہاں سے واپس بلائے۔

  • UNI
  • Last Updated: Apr 01, 2018 09:08 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
سفارتکاروں کے اخراج کا معاملہ : روس اور برطانیہ کے درمیان کشیدگی میں اضافہ
علامتی تصویر

ماسكو: روسی ڈبل ایجنٹ سرگئی اسكرپل اور اس کی بیٹی پر لندن میں کیمیائی گیس حملے کے بعد دنیا کے کئی ممالک میں روسی سفارتکاروں کو نکالے جانے کے بعد روسی وزارت خارجہ نے برطانوی حکومت کو صاف طور پر کہہ دیا ہے کہ وہ اپنے 50 فیصد سے زیادہ سفارتکاروں اور تکنیکی عملے کو فوری طور پر یہاں سے واپس بلائے۔

وزارت خارجہ نے برطانیہ سے یہ وضاحت بھی طلب کی ہے کہ لندن میں روسی ایئر لائنز کے مسافر طیارے کی تحقیقات كيوں کی گئی تھی اور اس طرح کی کارروائی کا حق اس کے پاس بھی ہے۔ اس کے علاوہ روسی شہریوں کو برطانیہ کے دورے پر جانے سے پہلے احتیاط برتے جانے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ وہاں ان کے ساتھ بہت برا سلوک ہو سکتا ہے۔

قابل غور ہے کہ جاسوس گیس معاملہ کے بعد مغربی ممالک نے روس کے 100 سے زائد سفارت کاروں کو نکال دیا ہے۔ روس کا کہنا ہے کہ اس کے ڈبل ایجنٹ پر جس طرح کا حملہ کیا گیا ہے وہ دوسری عالمی جنگ کے بعد کا پہلا واقعہ ہے جس میں کسی پر اس طرح کے کیمیکل کا استعمال کیا گیا ہے۔اس دوران روس نے کہا ہے کہ یہ مغربی ممالک کی سازش ہے کہ وہ روس کو سفارتی سطح پر الگ تھلگ کرنا چاہتے ہیں۔

وزارت خارجہ نے کل برطانوی سفارت کار لاري بریسٹو کو سمن جاری کرکے واضح طور پر کہہ دیا کہ برطانیہ کے پاس یہاں اپنے عملے میں کمی کرنے کا ایک ماہ کا وقت باقی ہے۔ اس پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے برطانوی وزارت خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ یہ بہت زیادہ حیران کرنے والا واقعہ ہے۔

First published: Apr 01, 2018 09:06 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading