ہوم » نیوز » Explained

Explained: دنیا کی آدھی سے زیادہ آبادی کے لیے ویکسین پاسپورٹ (vaccine passport) کیوں بنے گا امتیازی سلوک کی وجہ؟ جانیے حیران کن حقائق

نیو یارک ٹائمز کی ایک خبر کے مطابق عالمی ویکسین ٹریکر نے بتایا ہے کہ دنیا بھر میں ویکسین کی صرف 3.35 بلین خوراکیں دی گئیں ہیں، جو ہر 100 افراد کے لئے 44 خوراکوں کے برابر ہے۔ تاہم ویکسین کا 85 فیصد اعلی اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں چلایا گیا ہے۔ کم آمدنی والے ممالک میں صرف 0.3 فیصد ہی ویکسین کی خوراکیں دی گئیں ہیں۔ جس سے ویکسین پاسپورٹ کو لے کر بھیانک انداز میں امتیازی سلوک کا خدشہ ہوتا ہے۔

  • Share this:
Explained: دنیا کی آدھی سے زیادہ آبادی کے لیے ویکسین پاسپورٹ (vaccine passport) کیوں بنے گا امتیازی سلوک کی وجہ؟ جانیے حیران کن حقائق
ویکسینیشن

Vacc


ہندوستانی وزیر خارجہ ایس جئے شنکر (S Jaishankar) نے کہا ہے کہ بین الاقوامی سفر سے قبل اور بعد میں کورونا وائرس (COVID-19) سے متعلق مسافروں کی جانچ کرنا سفر کی ایک اہم بنیاد ہونی چاہئے۔ اس بحث سے قطع نظر ایک مسئلہ ابھر کر سامنے آتا ہے اور وہ یہ ہے کہ کس طرح دنیا کی آدھی آبادی ویکسین پاسپورٹ (vaccine passport) کے تحت امتیازی سلوک کا شکار ہوسکتی ہے؟


جمعہ کو ماسکو میں جئے شنکر نے کہا کہ ’’اگر ایسے افراد جن کا بین الاقوامی سفر کے لئے پہلے ٹیسٹ کیا جاتا ہے اور آمد کے وقت ٹیسٹ کیا جاتا ہے تو وہ سفر کی ایک اچھی خاصی بنیاد ہے لیکن کچھ ممالک نے اب ویکسی نیشن کا معاملہ پیش کیا ہے۔ لہذا ہمیں واضح طور پر اس مسئلہ پر اپنا موقف اپنانا ہوگا۔ میں نے آج بحث کی کہ ہم یہ کیسے یقینی بناتے ہیں کہ ہمارے ساتھ کسی طرح کا امتیازی سلوک نہیں کیا جائے گا اور ہم اپنے شہریوں کو ایک دوسرے کے ملکوں کے سفر کے بارے میں کس طرح سمجھا پائیں گے؟‘‘


  • ویکسین پاسپورٹ کیا ہیں؟


ویکسین پاسپورٹ Vaccine passports یا ویکسین سرٹیفکیٹ vaccine certificates وہ دستاویزات ہیں جن سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آپ کو اپنے ملک میں COVID-19 کے خلاف ٹیکے لگائے گئے ہیں۔ اس میں ایک QR-code بھی دیا جاتا ہے، جسے اپنے فونز سے اسکین کیا جاسکتا ہے اور اسی کے تحت اپنے ڈاکٹروں یا فارمیسیوں سے رابطہ کرسکتے ہیں۔ اس طرح دنیا کے کسی بھی خطہ میں مذکورہ شخص سے متعلق ویکسین پاسپورٹ یا ویکسین سرٹیفکیٹ سے تفصیلات حاصل کی جاسکتی ہے۔
دنیا کے بہت سارے ممالک امید کرتے ہیں کہ چونکہ اب کچھ مہینوں سے ویکسینیں دستیاب ہیں ، لہذا ویکسین پاسپورٹ لوگوں کو زیادہ آسانی سے سرحدوں کو عبور کرنے کی سہولت فراہم کرے گا، جس کی وجہ سے قرنطینہ کی ضرورت کم ہوجائے گی۔ تاہم ویکسین پاسپورٹ کے لئے اخلاقی معاملہ پیش کرنا اتنا سیدھا نہیں ہے جتنا مغربی دنیا میں ظاہر ہوسکتا ہے۔

  • ویکسین پاسپورٹ ؍ سرٹیفکیٹ سے امتیازی سلوک کیا جائے گا؟


عالمی وبا کورونا وائرس عوام ہونے کے دو سال بعد بھی ایسے کئی ترقی پذیر اور غریب ممالک ہیں، جہاں کی اکثر آبادی کو ویکسین نہیں ملی یا وہ ابھی ویکسین کی پہلی خوراک سے ہی مستفید ہوئے ہیں۔ مندرجہ ذیل اعداد و شمار اس کی نشاندہی کرتے ہیں:

اگرچہ امریکہ ، برطانیہ اور متعدد دیگر ترقی یافتہ ممالک میں ویکسی نیشن کے کئی مسائل ہیں اور بہت سے دوسرے ممالک ہیں۔ جہاں کی صرف ایک فیصد سے بھی کم لوگوں کو کم از کم ایک خوراک موصول ہوئی ہے۔

نیو یارک ٹائمز کی ایک خبر کے مطابق عالمی ویکسین ٹریکر نے بتایا ہے کہ دنیا بھر میں ویکسین کی 3.35 بلین خوراکیں دی گئیں ہیں، جو ہر 100 افراد کے لئے 44 خوراکوں کے برابر ہے۔ تاہم ویکسین کا 85 فیصد اعلی اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں چلایا گیا ہے۔ کم آمدنی والے ممالک میں صرف 0.3 فیصد ہی ویکسین کی خوراکیں دی گئیں ہیں۔ جس سے ویکسین پاسپورٹ کو لے کر بھیانک انداز میں امتیازی سلوک کا خدشہ ہوتا ہے۔

عالمی آبادی کے 25 فیصد سے بھی کم افراد کو کم از کم ایک خوراک موصول ہوئی ہے، جبکہ صرف 11.9 فیصد آبادی پوری طرح سے دونوں خوراکیں حاصل کرچکی ہے، اس طرح وہ دنیا کے سفر کے لئے نام نہاد ویکسین پاسپورٹ کے بھی اہل ہے۔

یہ مسئلہ 200 سے زائد ویکسین امیدواروں کی موجودگی اور دو درجن سے زیادہ شاٹس کو دنیا بھر میں اختیار کرنے کے ساتھ مزید پیچیدہ ہے۔ لیکن تمام ممالک اس وقت استعمال ہونے والے ہر ویکسین امیدوار کو نہیں پہچانتے ہیں۔

مثال کے طور پر ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (World Health Organisation) کے کوویکین ویکسین پروگرام (Covax vaccine programme) کے ذریعہ غریب ممالک میں وسیع پیمانے پر استعمال ہونے والی کووی شیلڈ Covishield آکسفورڈ - آسٹرا زینیکا Oxford-AstraZeneca ویکسین کا ہندوستانی ورژن ہے۔ لیکن یوروپی یونین کے ڈرگ ریگولیٹر نے کووی شیلڈ کو تسلیم نہیں کیا ہے۔

جب ویکسین پاسپورٹ کا تصور آتا ہے تو ان حقائق کی وجہ سے بڑی عدم مساوات حقیقی خدشات کا باعث ہوتے ہیں۔

جیسا کہ یونیورسٹی آف سنٹرل فلوریڈا (University of Central Florida ) میں یارا آسی (Yara Asi) وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’’اگر تفریحی سرگرمیوں اور عالمی سفر کے لیے COVID-19 کے خلاف ویکسین اور اس سے متعلق پاسپورٹ ضروری کردیا جائے تو پوری دنیا شدید عدم مساوات کا شکار ہوجائے گی۔ کیونکہ کم ترقی یافتہ اور غریب ممالک کے عوام ابھی ویکسین سے پوری طرح مستفید نہیں ہوئے ہیں‘‘۔

انھوں نے بتایا کہ ’’عالمی سطح پر ویکسین کی دستیابی میں عدم توازن کے پیش نظر ایسی صورتحال کا تصور کرنا مشکل نہیں ہے جہاں امیر ممالک کے شہری عالمی سفر آسانی سے کرسکیں گے وہیں غیر ویکسین شدہ افراد کو سفر کے لیے کئی طرح کی مشکلات پیش آسکتی ہیں‘‘۔

  • عدم مساوات کو لے کر سخت تشویش:


نقل و حرکت نئے عالمی نظام میں معاشی تعمیر کا ایک اہم پہلو ہے۔ اسی طرح سیاحت بھی کئی ملکوں کی معیشت کو سنبھالا دینے میں ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کرتی ہے۔

دی کرسرویشن (The Conversation) کے 13 مارچ میں شائع ایک مضمون کے مطابق امیر ممالک نے موجودہ طور پر دستیاب تمام ویکسینوں کا آرڈر دیا ہے ، اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک اعلی آمدنی والے ملک میں اوسط شہری صحت سے متعلق کارکن یا اعلی افراد کی نسبت ویکسین لینے کا زیادہ امکان رکھتا ہے۔ کم آمدنی والے ممالک میں شہریوں کو خطرہ لاحق ہے۔
Published by: Mohammad Rahman Pasha
First published: Jul 12, 2021 09:43 AM IST