உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Blast in Pakistan: پاکستان کے صوبہ پنچاپ میں یوم عاشورہ کے ماتمی جلوس پر حملہ، بم دھماکے میں 3 افراد ہلاک،7کی حالت نازک

    پاکستان کے صوبہ سندھ میں جمعرات کو دھماکہ ہوا۔ اس میں شیعہ برادری کے 3 افراد مارے گئے ہیں۔

    پاکستان کے صوبہ سندھ میں جمعرات کو دھماکہ ہوا۔ اس میں شیعہ برادری کے 3 افراد مارے گئے ہیں۔

    زخمیوں کو قریبی اسپتال پہنچا دیا گیا ہے۔ زخمیوں میں 7 افراد کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ ان حالات میں مرنے والوں کی تعداداضافہ ہوسکتاہے۔ ابھی تک کسی تنظیم نے بم دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

    • Share this:
      اسلام آباد: پاکستان کے صوبہ پنچاب میں جمعرات کو دھماکہ ہوا۔ اس میں شیعہ برادری کے 3 افراد مارے گئے ہیں۔ ڈان کی خبر کے مطابق پاکستان کے صوبہ پنچاب کے بہاوان نگر میں شیعہ برادری کے لوگ ماتمی جلوس نکال رہے تھے۔ اسی دوران ایک بم دھماکہ ہوا۔ اس دھماکے میں 3 افراد جاں بحق اور تقریبا 40 افراد زخمی ہوئے۔ حملے کے بعد موقع پر بھگدڑ مچ گئی۔ جس کی آڑ میں حملہ آور وہاں سے بھاگ گئے۔

      دھماکے کی اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچ گئی۔ ریسکیو ٹیم بھی پہنچ گئی ہے۔ زخمیوں کو قریبی اسپتال پہنچا دیا گیا ہے۔ زخمیوں میں 7 افراد کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ ان حالات میں مرنے والوں کی تعداداضافہ ہوسکتاہے۔ ابھی تک کسی تنظیم نے بم دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔


      صوبہ پنجاب کے مشرقی حصے کے شہر میں سڑک کے کنارے کئی زخمی افراد مدد کے منتظر دیکھے جا سکتے ہیں۔ سٹی پولیس آفیسر محمد اسد اور شیعہ رہنما خاور شفقت نے بم دھماکے کی تصدیق کی۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ دھماکے کے بعد شہر میں کشیدگی  میں اضافہ ہواہے۔ شیعہ برادری نے حملے کی  مذمت کرتےہوئےجوابی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ شفقت نے بتایا کہ دھماکہ اس وقت ہوا جب جلوس مہاجر کالونی نامی ایک گنجان علاقے سے گزر رہا تھا۔ انہوں نے حملے کی مذمت کی اور حکومت پر زور دیا کہ وہ ایسے جلوسوں میں سیکورٹی بڑھا دے۔ اسی طرح کے جلوس ملک کے دیگر حصوں میں بھی نکل رہے ہیں۔

      واضح رہے کہ پاکستان میں شیعہ ، احمدی اور قادیانی مسلمان ہمیشہ بنیاد پرستوں کے نشانے پر رہے ہیں۔ بنیاد پرستوں کے دباؤ پر حکومت پاکستان نے ایک قانون بنایا اور احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیا۔ اس کے ساتھ ساتھ بنیاد پرست شیعہ مسلمانوں پر حملے کرتے رہتے ہیں۔
      Published by:Mirzaghani Baig
      First published: