உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    پھر دھماکے سے دہلاAfghanistan، جمعہ کی نماز کے بعد کابل کی ایک مسجد میں دھماکے سے 60 سے زائد کی موت، 78 زخمی

    Youtube Video

    Blast in Kabul:افغانستان میں حالیہ حملوں کے برعکس طالبان کا کہنا ہے کہ ان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے ملک میں سکیورٹی کی صورتحال میں اضافہ ہوا ہے۔ بہت حد تک اس نے ملک میں دولت اسلامیہ کی جڑیں کاٹنے کا کام کیا ہے۔

    • Share this:
      Blast in Kabul:مشکلات کے درمیان کھڑے افغانستان میں جمعے کو ایک اور دھماکہ ہوا۔ گزشتہ دو ہفتوں میں ملک میں یہ تیسرا بم دھماکہ ہے۔ ملک کے دارالحکومت کابل میں جمعے کو ہونے والے دھماکے میں 50 سے زائد افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ دھماکہ مسجد میں نماز جمعہ کے دوران ہوا۔ افغان وزارت داخلہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ دھماکا دوپہر کو کابل کی خلیفہ صاحب مسجد میں ہوا۔

      خودکش حملہ آور نے کیا دھماکہ
      دھماکے کا نشانہ بننے والے مسجد کے عالم نے خبر رساں ایجنسی روئٹرز کو بتایا کہ ان کا خیال ہے کہ یہ خودکش حملہ تھا۔ حملہ آور نماز کے وقت لوگوں کے ساتھ شامل ہوا جس کے بعد اس نے پوری واردات کو انجام دیا۔ ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ یہ حملہ اس وقت ہوا جب لوگ نماز کے بعد سنی مسجد میں جمع تھے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      عیدالفطر کے بعد طالبان کےخلاف شروع ہوگی جنگ! افغان کے سابق آرمی چیف نے للکارا

      دھماکے میں 60 سے زیادہ لوگوں کی موت
      اسپتال کے ذرائع نے بتایا ہے کہ دھماکے کے بعد سے اب تک تقریباً 66 افراد کی لاشیں یہاں پہنچ چکی ہیں۔ وہیں تقریباً 78 لوگ زخمی ہیں جن کا علاج جاری ہے۔ افغان حکومت والے طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے دھماکے کی مذمت کی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا ہے کہ جلد ہی مجرموں کو پکڑ کر سزا دی جائے گی۔ ابھی تک کسی دہشت گرد تنظیم نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      Afghanistan Blast:دو دھماکوں سے دہل گیا افغانستان کا مزار شریف شہر، 9 لوگوں کی موت، 13زخمی

      طالبان کا منفرد دعویٰ!
      افغانستان میں حالیہ حملوں کے برعکس طالبان کا کہنا ہے کہ ان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے ملک میں سکیورٹی کی صورتحال میں اضافہ ہوا ہے۔ بہت حد تک اس نے ملک میں دولت اسلامیہ کی جڑیں کاٹنے کا کام کیا ہے۔ لیکن بین الاقوامی حکام اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شورش کے دوبارہ شروع ہونے کا خطرہ بدستور موجود ہے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: