உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    برسلز میں ہوئے سلسلہ وار بم دھماکوں میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 34 ہوئی

    برسلز۔ یوروپی ملک بیلجیئم کی راجدھانی میں  ہوئے دھماکوں میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 34 ہو گئی۔ جبکہ دیگر 55 زخمی ہوگئے۔

    برسلز۔ یوروپی ملک بیلجیئم کی راجدھانی میں ہوئے دھماکوں میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 34 ہو گئی۔ جبکہ دیگر 55 زخمی ہوگئے۔

    برسلز۔ یوروپی ملک بیلجیئم کی راجدھانی میں ہوئے دھماکوں میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 34 ہو گئی۔ جبکہ دیگر 55 زخمی ہوگئے۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      برسلز۔ یوروپی ملک بیلجیئم کی راجدھانی میں  ہوئے دھماکوں میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 34 ہو گئی۔ جبکہ دیگر 55 زخمی ہوگئے۔ایک آتشیں فدائی نے برسلز ہوائی اڈے پر خود کو دھماکے سے اڑا لیا ۔اس دھماکے میں کم سے کم پندرہ لوگ مارے گئے۔ کچھ ہی دیر بعد دوسرا دھماکہ انتہائی مصروف اوقات میں میٹرو اسٹیشن پر ہوا جس میں سرکاری براڈکاسٹر وی آر ٹی کے مطابق 11 لوگ مارے گئے۔مقامی میڈیا کے مطابق دھماکوں کے بعد شہر کی سیکیورٹی مزید سخت کردی گئی۔سیکیورٹی فورسز نے ملک کے جوہری پلانٹس کی سیکیورٹی بھی سخت کردی ہے۔ ایئر پورٹ اور میٹرو اسٹیشن پر ان ہلاکت خیز دھماکوں کے بعد فضائی سروس کے ساتھ ساتھ تمام میٹرو اسٹیشن بھی بند کر دیئے گئے۔میٹرو اسٹیشن کے باہر خون میں لت پت لوگوں کو ایمرجنسی سروسز کی جانب سے طبی امداد دیتے ہوئے دیکھاگیا۔


      اسپتال کے ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ برسلز ایئرپورٹ کے ڈپارچر ہال میں ہونے والے دھماکوں کے نتیجے میں 55 لوگ زخمی بھی ہوئے۔اسکائی نیوز ٹیلی ویژن کے مطابق دھماکے امیریکن ایئرلائنز ڈیسک کے قریب ہوئے۔دھماکوں کے بعد ایئرپورٹ پر بھگڈر مچ گئی جبکہ ایئرپورٹ کو خالی کروا کر پروازیں معطل کردی گئیں۔ خبروں کے مطابق برسلز میں یورپی یونین کے دفتر کے قریب مال بِیک میٹرو اسٹیشن پر بھی ایک دھماکا ہوا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوگئے۔


      سوئیڈن کے وزیراعظم اسٹیفن لوف وِن نے جہاں ان حملوں کو 'جمہوری یورپ پر حملہ' قرار دیا وہیں برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ برسلز میں حملوں کے بعد ہر ممکن مدد کی جائے گی۔ دھماکوں کا یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب 19 مارچ کو بیلجیئم پولیس نے پیرس حملوں کے ماسٹر مائنڈ اور اہم ترین سہولت کار صالح عبدالسلام سمیت 3 ملزمان کو گرفتار کیا۔ خیال رہے کہ 13 نومبر 2015 کو پیرس میں 6 مقامات پر حملے کیے گئے تھے، حملہ آوروں اور سیکیورٹی فورسز میں 4 سے 5 گھنٹے تک مقابلہ جاری رہا اور 14 نومبر کو رات ایک بجے تمام حملہ آوروں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا گیا، ان حملوں میں 130 افراد ہلاک ہوئے تھے۔


      ایسا مانا جا رہا ہے کہ یہ دہشت گردانہ حملہ ہے۔ تاہم ابھی تک کسی نے اس کی ذمہ داری نہیں لی ہے۔

      لندن کے اسکائی نیوز نے کہا ہے کہ یہ دھماکے ہوائی اڈے کے روانگی لاؤنچ اور امریکی ائر لائنز ڈیسک کے نزدیک ہوئے، نومبر میں پیرس میں ہوئے دہشت گردانہ حملوں کے ایک مشکوک کی بروسلز میں گرفتاری کے چار روز بعد یہ دھماکے ہوئے ہیں۔ واقعہ کے بعد سے بیلجیئم پولس کو کسی بھی طرح کی حرکت سے نمٹنے کے لئے الرٹ کردیا گیا ہے۔ بیلجیم میڈیا کے مطابق ہوائی اڈے پر طیاروں کی آمدورفت روک دی گئی ہے اور تمام میٹرو اسٹیشنوں کو بند کردیا گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر آرہی تصاویر میں روانگی لاؤنچ سے دھواں اٹھتا نظر آرہا ہے اور ساری کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے ہیں۔ بیلیجئم کے وزیراعظم چارلس مائیکل نے ٹوئٹ کرکے کہا ’’ہم نے صورت حال پر پل پل نظر رکھی ہوئی ہے ۔ہماری پہلی ترجیح زخمی اور ہوائی اڈے پر پھنسے لوگ ہیں۔‘‘


      ہوائی اڈے کے ذرائع نے بتایا ہے کہ تمام پروازوں کو منسوخ کردیا گیا ہے اور اس طرف آنے والی تمام ٹرینوں کی آمدورفت بھی روک دی گئی ہے اور مسافروں کومحفوظ مقامات پر لے جایا جارہا ہے۔ یورپ نے دھماکہ کے اسباب کے بارے میں فی الحال کچھ نہیں بتایا ہے لیکن جنگجو تنظیم اسلامی مملکت کی مدد سے ہونے والے حملوں کے اندیشہ کے مدنظر مغربی یوروپ میں ہائی الرٹ جاری کردیا گیا ہے۔ دھماکوں کے بعد یوروپ کے شیئر بازاروں میں گراوٹ آگئی ہے۔ وزیر داخلہ جان زامیوں نے کل کہا تھا کہ ملک کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔

      First published: