உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    فیس بک نے حقوق انسانی کی خلاف ورزی کے الزام میں میانمار فوجی سربراہ سمیت ان افسروں پر لگائی پابندی

    میانمار فوجی سربراہ کی فائل فوٹو ۔

    میانمار فوجی سربراہ کی فائل فوٹو ۔

    فیس بک کے مطابق، ان صفحات اور اکاونٹس کو 1.20 کروڑ لوگ فالو کر رہے تھے۔ کمپنی نے کہا کہ ہم ایسے افراد کو روکنا چاہتے ہیں جو ہماری خدمات کا استعمال مذہبی اور نسلی تنازعہ کو بھڑکانے کے لئے کر رہے ہیں۔

    • Share this:
      فیس بک نے پیر کے روز میانمار کے آرمی چیف جنرل ہلینگ اور وہاں کے کئی دوسرے فوجی افسران کے اکاؤنٹس بند کردئیے ہیں۔ ان کی طرف سے نفرت بھری تقریریں اور فرضی خبریں پوسٹ کی جا رہی تھیں۔ اقوام متحده (یو این) نے پیر کے روز میانمار آرمی کے جنرل مین آننگ ہلینگ سمیت دیگر اعلی حکام کو نسل کشی کا مرتکب کہا تھا۔

      اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ ان لوگوں کی مہم کی وجہ سے 2017 ء میں ہزاروں مسلم روہنگیا بنگلہ دیش چلے گئے تھے۔ فیس بک نے بتایا کہ ان فوجی افسروں سے منسلک 18 فیس بک اکاؤنٹس، 52 فیس بک صفحات اور ایک انسٹاگرام اکاؤنٹ بلاک کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، ان پر پوسٹ کردہ ڈیٹا اور مواد حذف کردیئے گئے ہیں۔

      فیس بک کے مطابق، ان صفحات اور اکاونٹس کو 1.20 کروڑ لوگ فالو کر رہے تھے۔ سوشل میڈیا کمپنی نے کہا کہ ہم ایسے افراد کو روکنا چاہتے ہیں جو ہماری خدمات کا استعمال مذہبی اور نسلی تنازعہ کو بھڑکانے کے لئے کر رہے ہیں۔

      دراصل، اقوام متحدہ کے فیکٹ فائنڈنگ مشن نے پیر کو جینیوا میں ایک رپورٹ پیش کی تھی۔ اس میں بتایا گیا کہ روہنگیا اقلیتوں کے خلاف فوجی مہم ایک سال قبل شروع ہوئی تھی۔  میانمار کی فوج کی اس مہم کو روکنے کے لئے امن کے نوبل انعام سے سرفراز آنگ سان سوکی کی حکومت نے بھی مناسب اقدامات نہیں کئے۔

      اپنی رپورٹ میں اقوام متحدہ نے جنرل ہلینگ، اس کے جونئیر سو ون سمیت چار دیگر آرمی افسران کے خلاف مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا ہے۔ (ایجنسی ان پٹ)۔
      First published: