உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کیافیس بک اپنانام تبدیل کردے گا؟دی ورج کی رپورٹ میں ایک اہم انکشاف، جانئے تفصیل

    علامتی تصویر۔(Shuttertstock)۔

    علامتی تصویر۔(Shuttertstock)۔

    رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ ری برانڈ ممکنہ طور پر فیس بک کی سوشل میڈیا ایپ کو ایک بنیادی کمپنی کے تحت بہت سی مصنوعات میں سے ایک کے طور پر پیش کرے گا، جو انسٹاگرام ، واٹس ایپ ، اوکولس اور بہت کچھ جیسے گروپس کی نگرانی کرے گا۔ فیس بک نے تبصرہ کرنے کی درخواست کا فوری جواب نہیں دیا۔

    • Share this:
      سوشل میڈیا کی بڑی کمپنی فیس بک انکارپوریشن Facebook Inc اگلے ہفتے کمپنی کو نئے نام کے ساتھ برانڈ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے

      ورج کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فیس بک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر مارک زکربرگ 28 اکتوبر کو کمپنی کی سالانہ کنیکٹ کانفرنس میں نام کی تبدیلی کے بارے میں بات کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں ، لیکن جلد اس کی نقاب کشائی کی جا سکتی ہے۔

      رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ ری برانڈ ممکنہ طور پر فیس بک کی سوشل میڈیا ایپ کو ایک بنیادی کمپنی کے تحت بہت سی مصنوعات میں سے ایک کے طور پر پیش کرے گا، جو انسٹاگرام ، واٹس ایپ ، اوکولس اور بہت کچھ جیسے گروپس کی نگرانی کرے گا۔ فیس بک نے تبصرہ کرنے کی درخواست کا فوری جواب نہیں دیا۔

      واضح رہے کہ چند دن قبل کچھ گھنٹوں کے لئے ٹھپ ہوئے فیس بک (Facebook)، انسٹا گرام (Instagram) اور واٹس ایپ (WhatsApp) اور ایک وہسل بلوور (Whistleblower) کے انکشاف نے کمپنی کے سی ای او مارک زکربرگ (Mark Zuckerberg) کو 600 کروڑ ڈال (ہندوستانی کرنسی کے مطابق، تقریباً 4,47,34,83,00,000 روپئے) کا نقصان پہنچایا ہے۔ رپورٹس بتاتی ہیں کہ کچھ ہی گھنٹوں کی اس پریشانی کے دوران امیروں کی فہرست میں بھی مارک زکربرگ ایک مقام پھسل کر مائیکرو سافٹ کے بانی بل گیٹس سے ایک مقام نیچے آگئے ہیں۔

      یہ بات قابل ذکر ہے کہ چند روز قبل سوشل میڈیا سائٹس فیس بک، انسٹاگرام اور وہاٹس ایپ کی سروس عالمی سطح پر ڈاون ہوگئی تھی، جس کی وجہ سے صارفین کو کافی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ ان سوشل میڈیا پلیٹ فارم کی سروس کئی گھنٹوں تک ڈاون رہی۔ صارفین ٹوئٹ کرکے اپنی اپنی پریشانیوں کا اظہار کررہے ہیں۔

      وہیں فیس بک نے ٹوئٹ کرکے کہا کہ ہم جانتے ہیں کچھ لوگوں کو ہمارے ایپس اور مصنوعات تک پہنچنے میں پریشانی ہورہی ہے۔ ہم اسے جلد از جلد معمول پر لانے کیلئے کام کررہے ہیں اور کسی بھی طرح کی تکلیف کے لئے معذرت خواہ ہیں۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: