உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Facebook ہے روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام کا ذمہ دار! 150 بلین پاؤنڈ کا درج کیا مقدمہ، جانیے پورا معاملہ

    علامتی تصویر۔(Shuttertstock)۔

    علامتی تصویر۔(Shuttertstock)۔

    فیس بک پر یہ مقدمہ سین فرانسسکو میں درج کیا گیا ہے۔ شکایت میں کہا گیا ہے ہے کہ ساؤتھ ایسٹ ایشیا کے ایک چھوٹے سے ملک کے بازار میں اپنی پکڑ مضبوط کرنے کے لئے پلیٹ فارم کا غلط استعمال کیا گیا ہے۔ فیس بک نے اپنے پلیٹ فارم کے ذریعے نفرت پھیلانے والی باتوں اور زبانوں کا فروغ دیا ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی: سوشل میڈیں (Social Media) پلیٹ فارم فیس بک (Facebook) کے مسائل کم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہیں۔ کچھ دن پہلے واٹس ایپ (WhatsApp) پر یوروپی یونین کے ڈیٹا پالیسی کی خلاف ورزی کو لے کر 225 ملین کا جرمانہ لگایا گیا تھا اب فیس بک کے سامنے ایک اور نیا مسئلہ آگیا ہے۔ میانمار میں روہنگیا مسلمانوں (Rohingya Muslims) کے قتل عام کے لئے فیس بک کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کمپنی پر 150 بلین پاؤنڈ کے ہرجانے کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

      فیس بک پر یہ مقدمہ سین فرانسسکو میں درج کیا گیا ہے۔ شکایت میں کہا گیا ہے ہے کہ ساؤتھ ایسٹ ایشیا کے ایک چھوٹے سے ملک کے بازار میں اپنی پکڑ مضبوط کرنے کے لئے پلیٹ فارم کا غلط استعمال کیا گیا ہے۔ فیس بک نے اپنے پلیٹ فارم کے ذریعے نفرت پھیلانے والی باتوں اور زبانوں کا فروغ دیا ہے۔

      شکایت میں کہا گیا ہے کہ فیس بک کا الگورتھیم اس طرح کا ہے کہ وہ نفرت پھیلانے والی زبانوں کو فروغ دیتا ہے اور ایسے پوسٹ کے خلاف امریکہ اور یو کے میں شروع کی گئی قانونی کارروائی کے بعد بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم سے پوسٹ کو نہیں ہٹایا گیا۔

      شکایت میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ برما میں اس سوشل میڈیا پلیٹ فارم کی موجودگی سے فائدے بہت کم تھے جب کہ اس کے استعمال سے روہنگیا مسلمانوں کے حقوق کا نقصان کافی زیادہ تھا اس کے باوجود اسے روکنے کے لئے بھی کسی طرح کے ٹھوس اقدامات نہیں اُٹھائے گئے۔

      فیس بک نے 2018 میں قبول کیا تھا کہ اُس نے میانمار میں مسلم اقلیت روہنگیا کے خلاف تشدد اور نازیبا الفاظ والے پوسٹ کو روکنے کے لئے مناسب قدم نہیں اُٹھائے تھے۔ کمپنی کی جانب سے کمیشن کی گئی ایک آزاد رپورٹ میں پایا گیا ہے کہ ’فیس بک نفرت پھیلانے اور نقصان پہنچانے والوں کے لئے ایک اہم ہتھیار بن گیا ہے، اور پوسٹ کو آف لائن تشدد سے جوڑا گیا ہے۔ ‘

      یو ایس اور یو کے میں، فیس بک کے خلاف کئی الزامات کو شامل کیا گیا ہے جس میں سب سے پہلے فیس بک کے الگورتھم نے روہنگیا لوگوں کے خلاف نازیبا الفاظ اور نفرت پھیلانے والے زبانوں کو پھیلایا۔ کمپنی مقامی ثالثوں اور حقائق کی جانچ کرنے والوں میں سرمایہ کاری کرنے میں پوری طرح سے ناکام رہی، یہ روہنگیا لوگوں کے خلاف تشدد بھڑکانے والے مختلف عہدوں کو ہٹانے میں ناکام رہا، اور فیس بک نے اُن اکاونٹ کو بھی بند نہیں کیا جن سے اس طرح کے پوسٹ ہورہے تھے یا پھر جن میں ایسی ہیٹ اسپیچ ڈالی گئیں تھیں۔



      قومی، بین الاقوامی اور جموں وکشمیر کی تازہ ترین خبروں کےعلاوہ تعلیم و روزگار اور بزنس کی خبروں کے لیے نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں ۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: