اپنا ضلع منتخب کریں۔

    فلسطینیوں کےخلاف اسرائیلی مظالم پربنی فلم، ڈائریکٹرنےکہا’میں ڈرتی نہیں ہوں، ہمیشہ سچ بتاؤں گی‘

    ایک نوجوان لڑکی کی کہانی سنائی۔

    ایک نوجوان لڑکی کی کہانی سنائی۔

    اسرائیل اور فلسطین میں نیٹ فلکس پر نشر ہوئی فلم ’فرحہ‘ موضوع بحث بنی ہوئی ہے۔ مشہور فلمساز ذرین سلام نے کہا کہ فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی مظالم کو منظر عام پر لانے کے لیے میں نے یہ فلم بنائی ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Saudi Arabia
    • Share this:
      فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی مظالم پر بنی فلم فرحہ (Farha) کی مشہور فلمساز ذرین سلام (Darin Sallam) نے کسی بھی دباؤ کو مسترد کر دیا۔ انھوں نے اس فلم میں 1948 کے یوم نکبہ کے واقعات کو دکھایا ہے، جہاں اسرائیلی فورسز نے ایک بچے سمیت ایک خاندان کو قتل کر دیا۔ عرب نیوز کے ساتھ ایک انٹرویو کے دوران سلام نے کہا کہ میں سچ بتانے سے نہیں ڈرتی۔ ہمیں ایسا کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ فلمیں زندہ رہتی ہیں اور ہم مر جاتے ہیں۔

      اسرائیل اور فلسطین میں نیٹ فلکس پر نشر ہوئی فلم ’فرحہ‘ موضوع بحث بنی ہوئی ہے۔ مشہور فلمساز ذرین سلام نے کہا کہ فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی مظالم کو منظر عام پر لانے کے لیے میں نے یہ فلم بنائی ہے۔ اسی لیے میں نے یہ فلم بنانے کا فیصلہ کیا۔ اس لیے نہیں کہ میں سیاسی ہوں، بلکہ اس لیے کہ میں اس کہانی کی وفادار ہوں جو میں نے سنی ہے۔

      مذکورہ فلم نے اسرائیلی حکام کو پریشان کر دیا ہے، جنہوں نے فرحہ کو برا بھلا کہا ہے اور اسے نشر کرنے کے نتائج کی دھمکی بھی دی ہے۔ اسرائیل کے سبکدوش ہونے والے وزیر خزانہ ایویگڈور لیبرمین نے ایک حالیہ بیان میں کہا کہ یہ پاگل پن ہے کہ نیٹ فلکس نے ایک ایسی فلم چلانے کا فیصلہ کیا جس کا پورا مقصد جھوٹا دکھاوا اور اسرائیلی فوجیوں کے خلاف اکسانا ہے۔


      یہ بھی پڑھیں: 

      سلام نے انکشاف کیا کہ ان کی والدہ نے انہیں 1948 میں تقسیم فلسطین کے دوران اپنے کمرے میں بند ایک نوجوان لڑکی کی کہانی سنائی۔ اس لڑکی کو اس کے والد نے اپنی زندگی کی حفاظت کے لیے بند کر دیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ تصادم سے بچ گئی اور وہ شام پہنچ گئی، جہاں اس کی ملاقات ایک شامی لڑکی سے ہوئی اور اس نے اپنی کہانی اس کے ساتھ شیئر کی۔

      یہ شامی لڑکی بڑی ہوئی، شادی ہوئی اور ایک بچہ پیدا ہوا اور اس نے اپنی بیٹی کے ساتھ کہانی شیئر کی اور یہ بیٹی میری ہو گئی۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: