உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    پیرس حملہ: ٹویٹر، گوگل اور فیس بک کے خلاف مقدمہ

    نیو یارک : پیرس دہشت گردانہ حملے میں مارے گئے ایک شخص کے والد نے ٹویٹر، گوگل اور فیس بک کے خلاف عدالت میں مقدمہ دائر کیا ہے۔

    نیو یارک : پیرس دہشت گردانہ حملے میں مارے گئے ایک شخص کے والد نے ٹویٹر، گوگل اور فیس بک کے خلاف عدالت میں مقدمہ دائر کیا ہے۔

    نیو یارک : پیرس دہشت گردانہ حملے میں مارے گئے ایک شخص کے والد نے ٹویٹر، گوگل اور فیس بک کے خلاف عدالت میں مقدمہ دائر کیا ہے۔

    • Agencies
    • Last Updated :
    • Share this:
      نیو یارک : پیرس دہشت گردانہ حملے میں مارے گئے ایک شخص کے والد نے ٹویٹر، گوگل اور فیس بک کے خلاف عدالت میں مقدمہ دائر کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کمپنیوں نے اسلامک اسٹیٹ کو دہشت گردی کی تشہیر کے لئے اپنا پلیٹ فارم استعمال کرنے دیا ہے۔ میڈیا رپورٹس میں بات کہی گئی ہے۔
      انٹرنیشنل بزنس ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق یہ مقدمہ شمالی کیلی فورنیا میں رےنالڈو گونزالویز نے امریکی ضلعی عدالت میں دائر کیا ہے۔ وہ نومبر میں پیرس دہشت گرد حملے کے شکار 130 لوگوں میں سے ایک نوجوان کے والد ہیں۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ سوشل میڈیا آئی ایس کو پیسے جمع کرنے اور بھرتیاں کرنے کی اجازت دے رہی ہیں۔
      رپورٹ کے مطابق آئی ایس لیڈر عمر حسین نے سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹ فیس بک کا استعمال کر کے پیرس حملے کے ارکان کی بھرتی کی تھی۔ آئی ایس حامیوں نے مائیکرو بلاگنگ سائٹ ٹوئٹر پر مہلوک فوجیوں کی تصویر ٹوئٹر اے میسج فرام آئی ایس آئی ایس ٹو امریکہ نام سے پوسٹ کی تھی۔ وہیں گوگل ویڈیو اسٹریمنگ پلیٹ فارم یو ٹیوب پر سر کاٹنے کی کئی ویڈیو موجود ہیں۔
      جنوری میں فلوریڈا کی ایک خاتون نے ٹوئٹر کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا ، جس میں اس پر آئی ایس کو دنیا بھر میں بھرتیاں کرنے میں مدد کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ گزشتہ سال نومبر میں اردن کے عمان میں دہشت گردانہ حملے میں تمارا فیلڈس کے شوہر بھی مارے گئے تھے۔ انہوں نے نقصان کی تلافی کے لئے ٹویٹر پر مقدمہ درج کیا تھا۔ انہوں نے اپنی درخواست میں کہا تھا کہ ٹویٹر کی مدد کے بغیر آئی ایس کی دنیا کی سب سے زیادہ خوفناک دہشت گرد تنظیم کے طور پر نہیں بن سکتا تھا ۔ انہوں نے لکھا کہ ٹوئٹر نے آئی ایس کو اپنی تشہیر اور دہشت گردوں کی بھرتی کرنے کی جان بوجھ کر کی اجازت دی۔
      تاہم ٹوئٹر نے دعوی کی تردید کی اور ایک بیان جاری کر کے کہاکہ ہمیں یقین ہے کہ اس مقدمے میں کچھ بھی نہیں ہے۔ ہمیں کنبہ کو ہوئے بھاری نقصان کے لئے انتہائی دکھ ہے۔ دنیا بھر کے لوگوں کی طرح ہم بھی عسکریت پسند گروپوں کی طرف سے انٹرنیٹ کے ذریعے اپنا اثر بڑھانے کے تئیں فکرمند ہیں۔ پرتشدد دھمکی اور دہشت گردی کو فروغ دینے کے لئے ٹویٹر پر کوئی جگہ نہیں ہے اور دیگر سوشل نیٹ ورک کی طرح ہی ہمارے قوانین بھی اس معاملے میں انتہائی واضح ہیں۔
      First published: