உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    طالبان لیڈر کا انٹرویو کرکے سرخیوں میں آئی خاتون اینکر بیہستہ ارغانڈ نے چھوڑدیا افغانستان

    Afghanistan Crisis: طالبانی لیڈر یوسف زئی کا انٹرویو کرنے کے بعد وہ ممد کے لئے ایک کارکن کے پاس گئی تھیں۔ اس کے بعد گزشتہ منگل کو وہ قطر ایئرفورس کی فلائٹ سے ملک سے باہر چلی گئیں۔

    Afghanistan Crisis: طالبانی لیڈر یوسف زئی کا انٹرویو کرنے کے بعد وہ ممد کے لئے ایک کارکن کے پاس گئی تھیں۔ اس کے بعد گزشتہ منگل کو وہ قطر ایئرفورس کی فلائٹ سے ملک سے باہر چلی گئیں۔

    Afghanistan Crisis: طالبانی لیڈر یوسف زئی کا انٹرویو کرنے کے بعد وہ ممد کے لئے ایک کارکن کے پاس گئی تھیں۔ اس کے بعد گزشتہ منگل کو وہ قطر ایئرفورس کی فلائٹ سے ملک سے باہر چلی گئیں۔

    • Share this:
      کابل: افغانستان پر طالبان (Taliban) کے قبضے کے بعد ہر طرف خوف کا منظر ہونے کی خبر آرہی ہے۔ ہر روز طالبان کے خوف سے ہزاروں افغانی ملک چھوڑ کر بھاگ رہے ہیں۔ اب خبر ہے کہ طلوع نیوز کی صحافی بیہستہ ارغانڈ (Journalist Behesta Arghand) بھی ملک چھوڑ کر بھاگ گئی ہیں۔ گزشتہ دنوں انہوں نے طالبان کے ایک لیڈر کا انٹرویو کرکے سنسنی پھیلا دی تھی۔ بیہستہ نے بغیر کسی خوف کے طالبان کے اس لیڈر سے سخت سوال پوچھے تھے۔ ان کے اس انٹرویو نے پوری دنیا میں تہلکہ مچا دیا تھا۔

      سی این این کے مطابق، بیہستہ ارغانڈ (Journalist Behesta Arghand) نے طالبان کے خوف کے سبب ملک چھوڑ دیا ہے۔ بیہستہ نے سی این این سے کہا کہ لاکھوں افغانیوں کی طرح انہیں بھی طالبان کا خوف لگتا ہے۔ طلوع نیوز چینل کے مالک سعد محسنی نے کہا ہے کہ طالبان کے آنے کے بعد سے ان کئی اینکر اور رپورٹر چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔ سعد محسنی کے مطابق ان کے سامنے فی الحال دوہرا چیلنج ہے۔ پہلا یہ ان کے دفتر سے لوگ مسلسل چھوڑ رہے ہیں اور ان کی جگہ کسی دوسرے کو لانے میں پریشانی آرہی ہے۔ اور دوسرا طالبان کے اقتدار میں چینل کو چلانا۔


      ملک چھوڑنے کا درد

      بیہستہ ارغانڈ نے طلوع نیوز چینل میں صرف ایک ماہ 20 دن کام کیا۔ انہوں نے کہا، ’میں نے 9ویں کلاس میں صحافی بننے کا فیصلہ کیا تھا۔ میں نے چار سال تک کابل یونیورسٹی میں صحافت (جرنلزم) کی پڑھائی کی۔ انہوں نے کئی نیوز ایجنسیوں اور ریڈیو اسٹیشنوں میں تھوڑے وقت کے لئے کام کیا، پھر اس سال کی شروعات میں ایک اینکر کے طور پر طلوع نیوز میں شامل ہوئیں۔

      حالات میں سدھار آنے کے بعد ہوگی واپسی

      طالبانی لیڈر یوسف زئی کا انٹرویو لینے کے بعد وہ مدد کے لئے ایک کارکن کے پاس گئی تھیں۔ اس کے بعد گزشتہ منگل کو وہ قطرایئرفورس کی فلائٹ سے ملک سے باہر آگئیں۔ ان کے ساتھ فیملی کے کئی اور اراکین بھی تھے۔ انہوں نے کہا، ’اگر طالبان وہی کرتے ہیں جو انہوں نے کہا تھا- ’انہوں نے جو وعدہ کیا تھا اور صورتحال بہتر ہوجاتی ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ میں محفوظ ہوں اور میرے لئے کوئی خطرہ نہیں ہے، تو میں اپنے ملک واپس آجاوں گی اور اپنے ملک کے لئے کام کروں گی‘۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: