உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ہندوستان کی سختی پر قطر کا جواب، FIFA ورلڈکپ کیلئے ذاکر نائیک کو نہیں دیا تھا دعوت نامہ

    قطر کا کہنا ہے کہ دیگر ممالک کی جانب سے اس حوالے سے غلط معلومات پھیلائی جا رہی ہیں، تاکہ ہندوستان اور قطر کے باہمی تعلقات خراب ہوں۔

    قطر کا کہنا ہے کہ دیگر ممالک کی جانب سے اس حوالے سے غلط معلومات پھیلائی جا رہی ہیں، تاکہ ہندوستان اور قطر کے باہمی تعلقات خراب ہوں۔

    قطر کا کہنا ہے کہ دیگر ممالک کی جانب سے اس حوالے سے غلط معلومات پھیلائی جا رہی ہیں، تاکہ ہندوستان اور قطر کے باہمی تعلقات خراب ہوں۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Delhi | qatar
    • Share this:
      نئی دہلی. قطر میں ہورہا  فیفا ورلڈ کپ اس وقت تنازعات میں گھر گیا تھا  جب مفرور بنیاد پرست ذاکر نائیک نے فیفا ورلڈ کپ-2022 کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی تھی۔ اس پر ہندوستان نے قطر پر سخت اعتراض ظاہر کیا تھا۔ اب دوحہ نے اس معاملے پر اپنا موقف واضح کر دیا ہے جو سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ قطر نے سفارتی سطح پر ہندوستان کو مطلع کیا ہے کہ ذاکر نائیک کو فٹبال ورلڈ کپ کی افتتاحی تقریب میں شرکت کے لیے مدعو نہیں کیا گیا تھا۔ قطر کا کہنا ہے کہ دیگر ممالک کی جانب سے اس حوالے سے غلط معلومات پھیلائی جا رہی ہیں، تاکہ ہندوستان اور قطر کے باہمی تعلقات خراب ہوں۔

      حکومت ہند نے واضح طور پر قطر کو اپنا اعتراض پہنچا دیا تھا۔ ہندوستان نے کہا تھا کہ اگر قطر نے فٹبال ورلڈ کپ کی افتتاحی تقریب میں مفرور ذاکر نائیک کو باضابطہ طور پر مدعو کیا تھا تو نئی دہلی سے نائب صدر جگدیپ دھنکھڑ افتتاحی تقریب میں شرکت کے لیے دوحہ نہیں جائیں گے۔ اب ہندوستان  کے اعتراض پر قطر نے نئی دہلی کو اس سے آگاہ کر دیا ہے۔ قطر نے کہا کہ ذاکر نائیک کو دوحہ نے باضابطہ طور پر مدعو نہیں کیا تھا۔ قطر کا کہنا ہے کہ ہندوستان   کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو خراب کرنے کے لیے ایسی غلط معلومات پھیلائی جا رہی ہیں۔

      نئے کپتان کے ساتھ اگلے مقابلے میں اترے گی ٹیم انڈیا، یہاں جانئے پوری تفصیلات


      مینیجمنٹ مجھے نظرانداز کررہا ہے'، پاکستان کے اسٹار کرکٹر نے رمیزراجہ سے لگائی مدد کی گہار

      ہندوستان 2016 سے ذاکر نائیک کی تلاش میں ہے۔ مفرور ذاکر نائیک پر منی لانڈرنگ کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کو دہشت گردی کے لیے اکسانے کا الزام ہے۔ ذاکر نائیک پر نفرت انگیز تقریر کرنے کا بھی الزام ہے۔ اس سال مارچ میں مفرور ذاکر نائیک کے زیر انتظام اسلامک ریسرچ فاؤنڈیشن کو وزارت داخلہ نے غیر قانونی تنظیم قرار دیا تھا۔ IRF پر UAPA کی سخت دفعات کے تحت پابندی لگا دی گئی ہے۔ ذاکر نائیک نے ملیشیا میں پناہ لے رکھی ہے۔ ہندوستان نے اس سلسلے میں ملیشیا کو حوالگی کی درخواست بھی بھیجی ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ سال 2020 میں دہلی میں ہوئے فسادات میں بھی اس کا ہاتھ تھا۔ نفرت انگیز تقاریر کی وجہ سے برطانیہ اور کینیڈا نے بھی ذاکر نائیک پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: