ہوم » نیوز » عالمی منظر

ایک ہندو نے لکھا تھا پاکستان کا پہلا قومی ترانہ

بہت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ پاکستان کا یہ ترانہ لاہور میں رہنے والے ایک ہندو شاعر نے لکھا تھا۔

  • Share this:
ایک ہندو نے لکھا تھا پاکستان کا پہلا قومی ترانہ
علامتی تصویر

چودہ اگست کی آدھی رات ریڈیو لاہور سے نشرہوئے قومی ترانہ کو سن کر پورا پاکستان خوش ہو گیا تھا۔ بہت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ پاکستان کا یہ ترانہ لاہور میں رہنے والے ایک ہندو شاعر نے لکھا تھا۔ پاکستان میں سیاسی جماعتوں کا ایک گروپ ایک ہندو کے ذریعہ لکھے گانے کو قومی ترانہ نہیں بنانا چاہتا تھا لیکن قائد اعظم کے سامنے کسی کی کیا ہمت تھی جو مخالفت کر سکے۔ اس طرح یہ پاکستان کا قومی ترانہ بنا۔ تاہم جناح کی موت کے ساتھ پاکستان کا یہ قومی ترانہ بدل دیا گیا۔


جناح نے حکم دیا کہ آئندہ 24 گھنٹوں میں بہترین ہندو شاعر کی تلاش کی جائے جو پاکستان کا قومی ترانہ لکھے گا۔ جناح نے مسلمانوں کے لئے ایک الگ ملک حاصل تو ضرور کر لیا تھا، لیکن دنیا کو دکھانا چاہتے تھے کہ وہ بےحد  سیکولر ہیں۔ اس لئے انہوں نے پاکستان کو نہ صرف سکیولر ملک ہونے کا اعلان کیا بلکہ قومی ترانہ کو ایک ہندو سے لکھوانا بھی طے کیا۔


اس وقت لاہور میں رہنے والے جگن ناتھ آزاد کو منتخب کیا گیا اور ان کو پانچ دن کا وقت دیا گیا۔ ان کی قلم چلی اور انہوں نے ایک ایسا ترانہ لکھ دیا، جو پاکستان کا پہلا قومی ترانہ بننے والا تھا۔ جناح نے ہری جھنڈی دی تو اسے قومی ترانے کے طور پر پہلی مرتبہ 14 اگست کی آدھی رات کو ریڈیو لاہور سے نشر کیا گیا۔ پھر 15 اگست کو۔ آئندہ 18 ماہ تک اسے پاکستان کے قومی ترانہ کا درجہ حاصل رہا۔

First published: Aug 11, 2018 12:40 PM IST