ہوم » نیوز » عالمی منظر

نمستے ٹرمپ: یہ 5 باتیں طے کریں گی کتنا کامیاب رہا ڈونلڈ ٹرمپ کا ہندوستان دورہ

اس ہفتہ کے اخیر میں جب آپ سونے یا پھر چھٹی منانے کے لئے جا رہے ہوں گے تب کچھ لوگ دنیا کے دو سب سے طاقتور لیڈران کے بیچ پیر کے روز کی چوٹی میٹنگ یقینی بنانے کے لئے چوبیسوں گھنٹے کام کر رہے ہوں گے۔

  • Share this:
نمستے ٹرمپ: یہ 5 باتیں طے کریں گی کتنا کامیاب رہا ڈونلڈ ٹرمپ کا ہندوستان دورہ
نمستے ٹرمپ: یہ 5 باتیں طے کریں گی کتنا کامیاب رہا ڈونلڈ ٹرمپ کا ہندوستان دورہ

اس ہفتہ کے اخیر میں جب آپ سونے یا پھر چھٹی منانے کے لئے جا رہے ہوں گے تب کچھ لوگ دنیا کے دو سب سے طاقتور لیڈران کے بیچ پیر کے روز کی چوٹی میٹنگ یقینی بنانے کے لئے چوبیسوں گھنٹے کام کر رہے ہوں گے۔ اس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ (Donald Trump) اور وزیر اعظم نریندر مودی کے گجرات میں ہونے والے روڈ شو کے انعقاد میں لگ رہے ہزاروں سرکاری اہلکاروں کو شامل نہیں کیا گیا ہے اور نہ ہی ان سیکورٹی اہلکاروں کو جن کا کام یہ طے کرنا ہے کہ اس دوران کوئی انہونی نہ ہو۔ پیر کے روز امریکی صدر کے طیارہ ائیرفورس ون کے ہندوستان پہنچنے تک کاروبار مذاکرات کار، دفاعی امور کے ماہرین، سفارت کار اور سیاستداں سے لے کر خفیہ حکام تک سبھی دن رات کام کرتے رہیں گے۔


1۔ ایک بہترین میٹنگ کے کل۔ پرزے جوڑنا


پیر کے روز صدر ٹرمپ کے احمد آباد پہنچنے سے کافی پہلے امریکہ کے سینکڑوں خفیہ افسران (CIA) نے ہندوستانی خفیہ محکمہ اور خصوصی حفاظتی گروپ (SPG) کے ساتھ مل کر کام شروع کر دیا تاکہ یہ یقینی ہو سکے کہ وہ اور وزیر اعظم مودی اپنی دو روزہ چوٹی میٹنگ کے دوران محفوظ رہیں۔ یہ دونوں لیڈران ہزاروں لوگوں کی بھیڑ سے ہو کر گزریں گے ایسے میں سیکورٹی اہلکاروں کے لئے یہ ایک مشکل چیلنج کی طرح ہی ہو گا۔


خاص طور پر تیار بوئنگ 747 کے علاوہ ٹرمپ اپنے ساتھ دنیا کی سب سے محفوظ مانی جانے والی کار (The Beast) بھی لے کر آئیں گے۔ یہ کار بم دھماکے تک برداشت کرنے میں اہل ہے۔



2. معاشی حصے داری بڑھانے کے لئے ایک بڑے سمجھوتے کی امید۔ 1980 کی دہائی کے آخری برسوں سے ہندوستان اور امریکہ کے رشتوں میں بہتری کی بنیاد معیشت رہی ہے۔ حالانکہ حالیہ سالوں میں امریکہ میں پروٹیکشنزم اور ہندوستان میں مندی نے اس کے مستقبل پر سوال اٹھائے ہیں۔

اس درمیان ایک بری خبر یہ بھی ہے کہ ہندوستان اور امریکہ کے بیچ لمٹیڈ فری ٹریڈ ایگریمنٹ پر دستخط نہیں ہوں گے جس کی کئی لوگوں نے امید کی تھی۔ انہوں نے اس کے بجائے کچھ بڑا کام کرنے کے لئے چنا ہے جس میں ایک جامع اقتصادی شراکت داری سمجھوتہ شامل ہے۔

3. ہند۔ امریکہ شراکت داری کو مضبوط کرنے والے 8-10 بڑے دفاعی سودے

سال 2000 کی دہائی کے آغاز سے ہی امریکہ ہندوستان کا دوسرا سب سے بڑا دفاعی سپلائر بن گیا ہے۔ وہیں، ٹرمپ کے اس دورے میں 8-10 بڑے دفاعی سودے ہونے کی امید ہے جن کی قیمت تقریبا 10 ارب ڈالر ہے۔ ان میں بحریہ کے لئے 2.6 ارب ڈالر کی لاگت سے 24 ایم ایچ 60 ہیلی کاپٹر اور تقریبا 80 کروڑ ڈالر میں چھ اے ایچ 64 ای اپاچے جنگی ہیلی کاپٹروں کی خریداری شامل ہے۔

4. کیا کشمیر، پاکستان اور افغانستان پر مودی۔ ٹرمپ میں بنے گی بات؟

پچھلے ماہ صدر ٹرمپ نے نئی دہلی کے اسٹریٹجک اسٹیبلشمنٹس کے لئے ایک طرح سے خطرے کی گھنٹی بجا دی تھی جب انہوں نے کہا کہ وہ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ سرحدی سمجھوتے پر بات چیت کریں گے اور کشمیر پر مستقبل کا ایک راستہ نکالیں گے۔ انہوں نے پہلے بھی کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کر کے نئی دہلی کو پریشان کیا ہے۔ حالانکہ کشمیر پر ہندوستان نے ہمیشہ پرزور طریقے سے کہا ہے کہ یہ تنازعہ دو طرفہ معاملہ ہے جس میں ہندوستان اور پاکستان کے علاوہ کسی تیسرے فریق کی مداخلت برداشت نہیں۔

حالانکہ یہ پوری بات نہیں۔ طالبان کے ساتھ ٹرمپ کا امن سمجھوتہ اس اندیشہ کو تقویت پہنچاتا ہے کہ افغانستان میں پاکستان کی انٹر۔ سروسیز انٹلی جنس (ISI) سے قریبی رشتے رکھنے والی جہادی تنظیم ایک بار پھر طاقت حاصل کر سکتی ہے۔

5. ہند۔ امریکہ رشتوں کو مضبوط کرتے عام ہندوستانی
انیسویں صدی کے اخیر میں جب ہندوستانی تارکین وطن بہتر زندگی کی امید کے ساتھ زرعی مزدوروں کی شکل میں امریکہ پہنچے تو انہوں نے کبھی اس مقام کو سوچا بھی نہیں ہو گا کہ جہاں آج یہ برادری کھڑی ہے۔ میکسیکن کے بعد ہندوستان دوسرا سب سے بڑا غیر ملکی نسلی گروپ ہے جو معشیت ، حکومت، تعلیم اور سیاست سمیت اقتدار کے ڈھانچہ کی چوٹی پر نمائندگی کرتا ہے بھلے ہی ریاستہائے متحدہ میں پیدا ہوئے اور ہندوستان میں پیدا ہوئے امریکی ایک ساتھ مل کر ملک کی آبادی کا صرف ایک فیصد حصہ بنتے ہیں۔ براہ راست انتخابی اہمیت کے لحاظ سے یہ ایک بہت چھوٹی برادری ہے لیکن ان کا اثر انہیں تقریبا بے جوڑ بنا دیتا ہے۔
First published: Feb 22, 2020 05:36 PM IST